ایم فیکٹر، کیوفیکٹر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲
سوال و جواب سوال جب ہم قرآن کو پڑھتے ہیں تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُس کا بیشتر حصہ ہمارے لیے نہیں ہے، بلکہ اس کے بیشتر حصے کے مخاطب دوسرے لوگ ہیں، یعنی غیر مسلم اقوام۔ قرآن کہیں منکر کو خطاب کرتا ہے، کہیں اہل کتاب یہودی اور مسیحی لوگوں کو خطاب کرتا ہے، کہیں منافق کو خطاب کرتا ہے اور کہیں منکرین پیغمبر کو خطاب کرتا ہے۔ ایسی حالت میں ایک مسلمان قاری کو محسوس ہوتا ہے کہ ہم قرآن کے صرف جزئی مخاطب ہیں۔ براہ کرم، اس معاملے کی وضاحت کیجیے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد)۔ جواب یہ سوال ایک مغالطے پر مبنی ہے۔ وہ مغالطہ یہ ہے کہ۔ ہم مسلمان مذکورہ کردار سے پاک ہیں۔ حالاں کہ اگر محاسبہ (introspection) کا مزاج ہو تو قرآن کا مسلمان قاری ہر خطاب کو خود اپنے لیے محسوس کرے گا۔ کیوں کہ منکر، یا منافق، یا یہودی، یا مسیحی، یہ سب گروہ ہی نام نہیں ہیں، بلکہ یہ سب کسی صفت سے متصف لوگوں کے نام ہیں۔ اگر حقیقی محاسبہ موجود ہو تو قاری محسوس کرے گا کہ یہ سب صفات تو خود میرے اندر بھی موجود ہیں، جیسا کہ اصحاب رسول کا حال تھا۔
چناں چہ ایک تابعی (حسن بصری) نے کہا کہ میں 70 صحابہ سے ملا۔ ہر ایک کو یہ احساس تھا کہ میں نفاق میں مبتلا ہو گیا۔ اسی طرح حدیث میں آیا ہے کہ مسلمان بعد کے زمانے میں، یہود و نصاریٰ کے طریقے اختیار کرلیں گے (لتتبعن سنن من كان قبلكم ، شبراً بشبر وذراعاً بذراع)، ایک اور حدیث میں ارشاد ہوا ہے کہ آپس کی لڑائی کرکے تم کافر نہ بن جانا (لا ترجعوا بعدی کفاراً، يضرب بعضكم رقاب بعض)، وغیرہ۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر قاری کے اندر صحیح مزاج موجود ہو تو قرآن میں مذکور ہر کردار اُس کے لیے ایک آئینہ بن جائے گا جس میں آدمی کو خود اپنی تصویر دکھائی دے گی۔
مسلمان کسی نسلی گروہ کا نام نہیں ہے۔ مسلمان کی شخصیت ، گروہ سے تعلق کی بنا پر نہیں، بلکہ
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues