Al-Risala · September 2009 · page 38

ایک مہلک عادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۸

اگر عیب مے جملہ بہ گفتی، ہنرش نیز بگو کا طریقہ اختیار کیا جائے تو کلام بے اثر ہو کر رہ جائے گا۔ مثلاً حضرت عائشہ سے ایک بار بتایا گیا کہ ابو ہریرہ فلاں حدیث بیان کرتے ہیں ۔ حضرت عائشہ نے کہا: کذب ابو ہریرہ (ابو ہریرہ نے جھوٹ کہا)۔ حضرت عائشہ نے یہ انداز اختیار نہیں کیا کہ پہلے وہ حضرت ابو ہریرہ کے تمام کارنامے بیان کریں اور اس کے بعد یہ کہیں کہ صرف ایک حدیث کے بیان میں ابو ہریرہ سے غلطی ہو گئی ہے۔ اس قسم کا متوازن طریقہ رسول نے یا اصحاب رسول نے کبھی اختیار نہیں کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کا طریقہ متوازن طریقہ نہیں ہے، بلکہ وہ غیر مفید طریقہ ہے۔ واضح رہے کہ قانونی اسلوب میں مختلف پہلوؤں کا احاطہ مقصود ہوتا ہے۔ لیکن اصلاحی اسلوب یہ ہے کہ دوسرے تمام پہلوؤں کو چھوڑ کر صرف اُس پہلو کو بیان کیا جائے جو موقع کی نسبت سے مطلوب ہے۔ یہی اصلاح یا دعوت کا صحیح اسلوب ہے، اور یہی وہ اسلوب ہے جس سے حقیقی نتیجہ بر آمد ہوتا ہے۔ سوال میں دعوتی کام کرتا ہوں۔ مگر دعوتی کام کے دوران میں نے پایا ہے کہ کچھ لوگ لمبی لمبی بحثیں کرتے ہیں۔ میں اُن کو بہت زیادہ سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں، مگر وہ مطمئن نہیں ہوتے۔ ایسی حالت میں مجھ کو کیا کرنا چاہیے (ایک قاری الرسالہ، حیدر آباد)

جواب

اصل یہ ہے کہ جب آپ ایک شخص سے براہِ راست گفتگو کریں تو اس میں آپ اور دوسرا شخص دونوں آمنے سامنے ہوتے ہیں ۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ گفتگو کے دوران ایگو پرابلم (ego problem) پیدا ہو جاتا ہے۔ شعوری یا غیر شعوری طور پر یہ احساس جاگ اٹھتا ہے کہ میں دوسرے کی بات کیوں مانوں ۔ اگر میں نے دوسرے کی بات مانی تو میں اس کے مقابلے میں چھوٹا ہو جاؤں گا۔ اس لیے دعوت کا صحیح طریقہ یہ ہے کہ جب تک آپ دیکھیں کہ گفتگو سنجیدہ انداز میں ہو رہی ہے، تو آپ اپنی گفتگو جاری رکھیں، ورنہ آپ اُس کو مطالعے کے لیے کوئی کتاب پیش کر دیں۔ آدمی جب کتاب پڑھتا ہے تو ایک طرف وہ خود ہوتا ہے اور دوسری طرف صرف ایک کتاب، نہ کہ اُس کے

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page