Al-Risala · September 2009 · page 39

ایک مہلک عادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۹

جیسا کوئی انسان ۔ اس لیے کتاب کے مطالعے میں ایگو پرابلم نہیں ہوتا۔ آدمی کھلے ذہن کے تحت پڑھتا ہے اور کھلے ذہن کے تحت اس کو سمجھنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طریقے کا نام حکمت دعوت ہے، اور حکمت کے بغیر دعوت کا کام مؤثر طور پر نہیں ہو سکتا۔

سوال

عرض ہے کہ میں دس سال سے دل چسپی کے ساتھ ماہ نامہ الرسالہ کا مطالعہ کر رہا ہوں۔ الرسالہ کا تازہ شمارہ جب آتا ہے تو میں ایک ہی نشست میں اس کو پڑھ ڈالتا ہوں۔ الرسالہ کے بعد اب کوئی اور چیز پڑھنے کا جی نہیں چاہتا۔ براہ کرم، میری رہنمائی فرمائیں (ایک قاری الرسالہ، علی گڑھ) جواب آپ کی اس بات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ الرسالہ کو ایک دلچسپ ریڈنگ میٹریل کے طور پر پڑھتے ہیں۔ میرے نزدیک یہ الرسالہ کی تصغیر (underestimation) ہے۔ یہ کہہ کر آپ نے الرسالہ کے ساتھ انصاف نہیں کیا۔ الرسالہ کا مقصد یہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ذہنی تفریح کا سامان فراہم کیا جائے۔ الرسالہ کا مقصد فکری، دینی اور اخلاقی اصلاح ہے۔

الرسالہ کا پڑھنے والا وہ ہے جو یہ کہے کہ الرسالہ کے مطالعے نے میری سوچ کو بدل دیا۔ الرسالہ کے مطالعے نے میرے منفی مزاج کا خاتمہ کر دیا۔ الرسالہ کے مطالعے کے ذریعہ میں نے اسلام کو دوبارہ دریافت کیا۔ الرسالہ کے مطالعے نے مجھے خدا سے ڈرنے والا بنا دیا۔ الرسالہ کے مطالعے کے ذریعہ میں نے جانا کہ دعوت الی اللہ ہر مسلمان پر فرض ہے۔ الرسالہ کے مطالعے نے میری زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔ الرسالہ کے مطالعے کے ذریعہ میں نے جانا کہ اسلام کا ریلونس (relevance) موجودہ زمانے میں کیا ہے۔ الرسالہ کے مطالعے کے ذریعہ میں نے جانا کہ اسلام کچھ رسمی اعمال کے مجموعہ کا نام نہیں ہے۔ اسلام دراصل یہ ہے کہ آدمی مسلسل طور پر ذہنی ارتقا (intellectual development) کا عمل کرے ۔ الرسالہ کے مطالعے کے ذریعہ میں نے جانا کہ تزکیہ کسی پراسرار چیز کا نام نہیں ، بلکہ وہ ربانی اصولوں پر پرتعمیر شخصیت (personality development) کا نام ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page