Al-Risala · September 2009 · page 40

ایک مہلک عادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۰

الرسالہ کا قاری وہ ہے جس کے اندر الرسالہ کے مطالعہ سے تخلیقی فکر (creative thinking) پیدا ہو۔ جو چیزوں کو ان کے ظاہری پہلو (face value) پر نہ لے، بلکہ وہ چیزوں کو زیادہ گہرائی کے ساتھ سمجھنے کی کوشش کرے۔ جو جذباتی انداز فکر کو ترک کر کے حقیقت پسندانہ انداز اختیار کرے۔ جو شکایتی معاملات میں ہمیشہ اپنی غلطی دریافت کرے، نہ کہ دوسروں کو غلط بتا کر ان کے خلاف بولنا شروع کر دے۔ الرسالہ کا قاری وہ ہے جو معاملات میں کھلے طور پر یہ کہہ سکے کہ میں غلطی پر تھا۔ I was wrong. الرسالہ کا قاری وہ ہے جو منفی انداز فکر (negative thinking) کی برائی کو شعوری طور پر دریافت کرے اور اس کو مکمل طور پر چھوڑ دے۔ جو فطرت کے اس قانون کو سمجھے کہ اس دنیا میں ہر طرف کنورژن (conversion) کا اصول ہے۔ یہی اصول انسان سے بھی مطلوب ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ ہر حال میں مثبت سوچ کو برقرار رکھے، وہ منفی تجربہ کو مثبت سبق میں تبدیل کر سکے۔ Converting negative experiences into positive experiences inspite of all provocation. سوال ماہ نامہ الرسالہ (اگست 2009) میں میں نے ایک مضمون ’’ترجیح کی غلطی‘‘ پڑھا ۔ اس مضمون میں آپ نے مولانا مودودی کی ایک بات نقل کی ہے، جس میں مولانا مودودی نے اپنے بچوں سے کہا تھا کہ ــــ میں اپنے تحریک کی کاموں کی وجہ سے تمھاری تربیت نہ کرسکا، ورنہ میں تمھیں دنیا کی مثالی اولا د بناتا۔ ایک صاحب نے اس مضمون کو پڑھ کر کہا کہ یہ کوئی قابل اعتراض بات نہیں ہے کہ مولانا مودودی نے اپنے بچوں کی تربیت پر توجہ نہیں دی۔ کیوں کہ بعض انبیاء بھی اپنے بچوں کی تربیت میں کامیاب نہ ہوسکے، مثلاً نوح علیہ السلام ۔ براہِ کرم، اس بات کی وضاحت فرمائیں (شاہ عمران حسن، نئی دہلی)۔

جواب

یہ سوال ایک غلط فہمی پر مبنی ہے۔ آپ الرسالہ کے مضمون کو غور سے پڑھیں تو آپ پائیں گے کہ

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page