Al-Risala · September 2009 · page 41

ایک مہلک عادت

الرسالہ، ستمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱

اس میں دو باتیں ایک دوسرے سے الگ ہیں— ایک ہے، اپنی حد تک توجہ دینا۔ اور دوسرا ہے توجہ کے با وجود اس کا نتیجہ نہ نکلنا۔ دونوں کے درمیان وہی فرق ہے، جس کو عربی میں کہا جاتا ہے: شتان ما بينهما۔ اصل یہ ہے کہ انسان تو جہ دینے کا مکلف ہے، لیکن وہ توجہ کا نتیجہ نکالنے کا مکلف نہیں۔ قرآن میں آیا ہے کہ: قوا أنفسكم وأهليكم ناراً (التحريم: 6)۔ اس آیت کے مطابق ، حکم کے درجے میں ضروری ہے کہ ہر باپ اپنی اولاد کی اس طرح تربیت کرے کہ وہ خدا کی پکڑ سے بچ سکے۔ یہ کوشش ہر باپ پر فرض ہے، لیکن جہاں تک کوشش کے نتیجے کا معاملہ ہے، وہ خود اولاد کے بس میں ہوتا ہے۔ اگر اولاد اپنے باپ کی تربیتی کوشش کو قبول کرے تو اس کا نتیجہ بر آمد ہوگا۔ اور اگر اولاد باپ کی تربیتی کوشش کو قبول نہ کرے تو اس کا نتیجہ برآمد ہونے والا نہیں۔

قرآن سے ثابت ہے کہ حضرت نوح نے اپنے بیٹے کی اصلاح کے لیے بطور خود ساری کوشش کی۔ انھوں نے اپنی طرف سے اس معاملے کوئی کمی نہیں کی۔ لیکن بیٹے نے آپ کی اصلاحی کوشش کو قبول نہیں کیا، اس لیے اس کا مطلوب نتیجہ نہیں نکلا۔ ایسی حالت میں ساری ذمے داری بیٹے کی ہے، نہ کہ باپ کی۔ اس کے برعکس ، الرسالہ میں ایک مسلم رہنما کی جو مثال دی گئی ہے، اُس میں خود مذکورہ مسلم رہنما نے اپنی زبان سے یہ اقرار کیا ہے کہ ان کی اولاد کی نسبت سے اُن کے اوپر جو اصلاحی کوشش فرض تھی، اس کو انھوں نے انجام نہیں دیا۔ ایسی حالت میں حضرت نوح کی مثال مذکورہ واقعے کی نسبت سے ایک غیر متعلق (irrelevant) مثال کی حیثیت رکھتی ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of September 2009 All issues

Printed page