Al-Risala · January 2009 · page 43

ایم فیکٹر، کیوفیکٹر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۳

انفرادی کردار کی بنا پر بنتی ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، اس دنیا میں آدمی امتحان کی حالت میں ہے۔ مسلمان بھی اسی امتحان میں ہیں۔ اس بنا پر ہر وقت یہ اندیشہ ہے کہ وہ نفس یا شیطان کی ترغیبات کی بنا پر کسی گم راہی میں مبتلا ہو جائیں ۔ یہ اندیشہ ہر مسلمان کے لیے موجود رہتا ہے۔ اسی لیے حکم دیا گیا ہے کہ ہر وقت اپنا محاسبہ کرتے رہو۔ اگر آدمی کے اندر محاسبہ کی زندہ کیفیت موجود ہو تو وہ بار بار محسوس کرے گا کہ وہ اُس چیز کا شکار ہو رہا ہے، جس کو قرآن میں مس شیطان (الأعراف: 201) کہا گیا ہے۔ اس طرح بار بار ایسا ہو گا کہ ایک مسلمان اقرار کے اعتبار سے، مسلمان ہوتے ہوئے مختلف قسم کی خفیہ یا علانیہ گم راہی کا شکار ہو جائے۔ یہ مزاج اگر مسلمان کے اندر زندہ ہو تو پورا قرآن اس کے لیے ہدایت کی کتاب بن جائے گا۔ دوسروں سے خطاب میں وہ محسوس کرے گا کہ یہاں قرآن خود مجھ کو اپنا مخاطب بنا رہا ہے۔ سوال اپنی استطاعت کے مطابق، میں Dawah work کرتا ہوں۔ پچھلے دنوں ایک شخص نے مجھ سے religion، civilization، culture اور tradition کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ تمام سوالات کو غور سے سننے کے بعد میں نے اُن صاحب سے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ان باتوں کا مجھے بخوبی علم نہیں ہے۔ اُن صاحب کے مطابق، ایک مذہب لیکن دو تہذیبیں ایک ساتھ نہیں رہ سکتیں ۔ اُس کی مثال اُنھوں نے دو الگ تہذیبیں رکھنے والے، بنگلہ دیش اور موجودہ پاکستان کے مسلمانوں سے دی۔ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ہولی کے تیوہار کا تعلق مذہب سے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک culture اور tradition ہے۔ اسے آپ لوگوں کے منانے میں کوئی قباحت نہیں ہے۔ اسی طرح عورتوں کا اپنے ماتھے پر بندیا لگانے کو مذہب سے نہیں بلکہ tradition سے جوڑنا چاہیے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ آپ مذہب اور culture کو الگ کر کے دیکھیں ۔ آپ سے درخواست ہے کہ آپ ان سوالات کی وضاحت فرمائیں۔ (منصور سردار، بھیونڈی، مہاراشٹر)

جواب

مذکورہ سوالات سب کے سب، غیر علمی سوالات ہیں۔ مثال کے طور پر بنگلہ دیش اور پاکستان میں

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page