Al-Risala · January 2009 · page 44

ایم فیکٹر، کیوفیکٹر

الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۴۴

لاحْدگی دو تہذیبوں کی بنا پر نہیں ہوئی، بلکہ یہ علاحدگی دوسری سیاسی مفاد (political interest) کی بنا پر ہوئی۔ بنگلہ دیش میں شیخ مجیب الرحمن کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی، اور پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی پورے پاکستان پر حکومت کرنا چاہتی تھی۔ دونوں میں سمجھوتہ نہ ہو سکا۔ اس لیے دونوں کے درمیان ٹکراؤ ہوا، اور اس ٹکراؤ کے نتیجے میں دو الگ ملک بن گئے۔ ہولی کا تہوار، یا ماتھے پر عورتوں کا بندیا لگانا، بلاشبہ کلچرل چیزیں ہیں۔ لیکن یہ کلچر ہندو روایات (traditions) کے تحت بنا ہے۔ اس طرح کی روایات ہر ملک میں پائی جاتی ہیں۔ لیکن جس گروہ میں یہ روایتیں پائی جاتی ہیں، اُسی گروہ کے لوگ اس کی پیروی کرتے ہیں۔ یہ صحیح نہیں کہ اس طرح کی روایتوں کو ہر گروہ کے اوپر چسپاں کیا جائے۔

دو چیزیں ایک دوسرے سے بالکل الگ ہیں۔ کمیونٹی کلچر، اور نیشنل کلچر۔ نیشنل کلچر صرف وہ ہے جو کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت ہوتا ہو۔ جو چیز کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا سے ثابت نہ ہوتی ہو، وہ کمیونٹی کلچر کا حصہ قرار پائے گی، نہ کہ نیشنل کلچر کا حصہ۔ کاسٹی ٹیوشن آف انڈیا کے مطابق، ہر کمیونٹی کو اپنے کلچر پر عمل کرنے کی آزادی ہے۔ لیکن کسی کمیونٹی کو یہ حق نہیں کہ وہ کسی خود ساختہ توجیہہ کی بنا پر، اپنے کلچر کو دوسرے گروہ کے اوپر چسپاں کرنے لگے۔

آپ دعوت الی اللہ کا کام کر رہے ہیں، تو آپ کو جاننا چاہیے کہ دعوت کا ایک لازمی اصول اعراض (avoidance) ہے۔ آپ کو چاہیے کہ آپ ایسی باتوں سے مکمل اعراض کریں جو دعوتی عمل سے براہ راست تعلق نہ رکھتی ہوں۔ اصول اعراض کی کامل پیروی کے بغیر کوئی شخص دعوت الی اللہ کا کام نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues

Printed page