Al-Risala · October 2009 · page 19

Diaspora: Jews who lived outside of Palestine.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹

کا یہ نعرہ تھا: سنرميهم فی البحر (ہم ان یہودیوں کو سمندر میں دھکیل دیں گے)۔ تمام عرب اور غیر عرب مسلم رہ نما یہودیوں کے خلاف سرگرم ہو گئے، یہاں تک کہ پوری مسلم دنیا مخالفِ یہود جذبات سے بھر گئی۔ ہر قسم کے تشدد حتیٰ کہ خود کُش بم باری کو یہودیوں کے خلاف جائز قرار دے دیا گیا۔ مگر یہود کے خلاف تمام سرگرمیاں کاؤنٹر پروڈکٹیو (counter productive) ثابت ہوئیں۔ اِن سرگرمیوں کا نقصان براہِ راست طور پر عربوں کے حصے میں آیا، اور بالواسطہ طور پر تمام دنیا کے مسلمانوں کے حصے میں۔ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی یہ مخالفِ یہود پالیسی واضح طور پر اسلامی تعلیمات کے خلاف تھی ۔ بال فور ڈکلیریشن کے تحت، فلسطین کی تقسیم، یہودی تارکین وطن (Jews in diaspora) کے لیے اپنے وطن کی طرف واپسی کے ہم معنی تھی۔ یہ بات واضح طور پر قرآن کی تعلیم کے عین مطابق تھی۔ قرآن کی سورہ نمبر 5 میں بتایا گیا ہے کہ حضرت موسیٰ کے زمانے میں یہود سے کہا گیا تھا: یــــا قـــــوم ادخلوا الأرض المقدسة التى كتب الله لكم (المائدۃ: 21) یعنی تم ارضِ مقدس میں داخل ہو جاؤ جس کو خدا نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے:

O my people, enter the holy land which God has assigned to you (5:21)

یہ یہود کون تھے ۔ یہ وہ یہود تھے جو اس وقت سینا کے علاقے میں ڈائس پورا کے حیثیت سے رہ رہے تھے۔ اس آیت میں ارضِ مقدس سے مراد فلسطین ہے۔ اس آیت کا خطاب حضرت موسیٰ کے ہم عصر یہودی ڈائس پورا سے تھا، جو فلسطین کے باہر جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے۔ ”جس کو اللہ نے تمھارے لیے لکھ دیا ہے‘‘ سے مراد یہ ہے کہ تمھاری یہ واپسی خدائی قانون، بہ الفاظ دیگر، فطرت کے قانون کے عین مطابق ہوگی۔ کیوں کہ فطرت کے قانون کے مطابق، کسی بھی تارکِ وطن گروہ کو یہ حق ہے کہ وہ اپنے اصل آبائی وطن کی طرف واپس چلا جائے۔

حضرت موسیٰ کے ساتھ جو بنی اسرائیل تھے، وہ کون تھے۔ وہ سب کے سب تارکینِ وطن کے گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔ جیسا کہ عرض کیا گیا، حضرت ابراہیم نے اپنے خاندان کی ایک شاخ کو فلسطین کے

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page