قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰
علاقے میں آباد کیا تھا۔ انھیں میں حضرت یوسف پیدا ہوئے، جو حضرت یعقوب کے بیٹے تھے۔ حضرت یوسف کے ساتھ ایسے حالات پیش آئے کہ وہ مصر پہنچ گئے۔ اُس زمانے میں وہاں جس بادشاہ کی حکومت تھی، وہ حضرت یوسف پر مہربان ہو گیا اور اُن کو اپنی حکومت میں ایک بڑا عہدہ دے دیا۔ پھر حضرت یوسف کو جب مصر میں استحکام حاصل ہوا، تو انھوں نے اپنے اہلِ خاندان، بشمول اپنے والد حضرت یعقوب، سے کہا کہ آپ لوگ فلسطین چھوڑ کر مصر آ جائیں۔ اِس طرح یہ لوگ مصر جا کر وہاں آباد ہوئے۔ وہاں اُن کی نسل کافی بڑھی، یہاں تک کہ وہ مصر کی ایک با اثر قوم بن گئے۔ حضرت یوسف کے بعد مصر میں سیاسی انقلاب آیا، اور قدیم بادشاہ (Hyksos Kings) کے بجائے ایک نیا خاندان، مصر کا حکم راں بن گیا جس نے فرعون (Pharaoh) کو اپنے خاندانی لقب کے طور پر اختیار کیا۔ فرعون کی اِسی حکومت کے زمانے میں بنی اسرائیل پر مظالم شروع ہوئے، یہاں تک کہ حضرت موسٰی پیدا ہوئے اور وہ بنی اسرائیل کو مصر سے نکال کر صحرائے سینا میں لے گئے۔ یہ بنی اسرائیل کے سفر کا پہلا مرحلہ تھا۔ اُن کے سفر کا دوسرا مرحلہ یہ تھا کہ وہ دوبارہ اپنے آبائی وطن (فلسطین) میں داخل ہو جائیں اور وہاں جا کر آباد ہوں۔
یہ کہنا صحیح ہوگا کہ حضرت موسٰی کے زمانے میں جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ براہِ راست خدا کے حکم کے تحت بنایا گیا تھا، وہ قدیم یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا تھا۔ اِس کے بعد بال فور ڈکلیریشن کے تحت، جن بیرونی یہودیوں کی واپسی کا منصوبہ بنا، وہ جدید یہودی ڈائس پورا سے تعلق رکھتا ہے۔
قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
عام طور پر مسلمان، فلسطین کے موجودہ مسئلے کو، قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔ اِن کا کہنا ہے کہ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کے بعد جب مدینہ میں ایک مسجد (مسجد نبوی) تعمیر کی، اور اس میں نماز با جماعت قائم کی، تو اُس وقت آپ نے یہودی طریقے کی پیروی کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ کو اپنا قبلہ قرار دیا۔ یہ صورتِ حال تقریباً 16 مہینے تک قائم رہی۔ اِس کے بعد قرآن میں
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues