قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱
تحویل قبلہ کا حکم آیا، اور پھر آپ نے اس کی پیروی کرتے ہوئے، کعبہ کو نماز کے دائمی قبلہ کے طور پر اختیار کر لیا۔ اس واقعے کے حوالے سے مسلمان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ فلسطین کا مسئلہ، قبلۂ اول کی بازیابی کا مسئلہ ہے۔ اس اعتبار سے فلسطین کا مسئلہ محض ایک قومی مسئلہ نہیں ہے، بلکہ وہ مسلمانوں کا ایک خالص دینی مسئلہ ہے۔
یہ نظریہ سرتا سر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ مسجد اقصٰی کا تعلق، قبلۂ اول سے نہیں ہے۔ قرآن میں مسجد اقصٰی کا ذکر معروف معنوں میں، کسی مسجد کے نام کے طور پر نہیں آیا ہے۔ مسجد اقصٰی کے معنی : دور کی مسجد (farthest place of worship) کے ہیں۔ اس کو دور کی مسجد اس لیے کہا گیا کہ وہ مکہ سے 765 میل (1232 کلومیٹر) کے فاصلے پر یروشلم میں واقع ہے۔ مسجد اقصٰی سے مراد یروشلم کی یہودی عبادت گاہ ہے۔
اس یہودی عبادت گاہ (ہیکل) کو حضرت سلیمان نے 957 قبل مسیح میں تعمیر کیا۔ اس عبادت گاہ کو بابل (عراق) کے حکم راں نبوخذ نصر (Nebuchadrezzar II) نے 586 قبل مسیح میں مکمل طور پر ڈھادیا۔ ایک عرصے کے بعد یہودیوں نے یہ عبادت گاہ دوبارہ بنائی۔ اس دوسری عبادت گاہ کو بھی رومیوں نے 70 عیسوی میں ڈھا کر کھنڈر کر دیا۔ اس عمارت کی صرف ایک دیوار باقی رہ گئی ہے، جس کو دیوار گریہ (Wailing Wall)، یا مغربی دیوار کہا جاتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت یہاں کوئی عمارت نہیں تھی، بلکہ صرف ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی۔ خلیفۂ ثانی عمر فاروق کے زمانے میں 638 عیسوی میں مسلمان یروشلم میں داخل ہوئے۔ حضرت عمر نے ہیکل کی جگہ (site) پر کوئی عمارت تعمیر نہیں کی۔ بعد کو اموی دور میں خلیفہ عبد الملک بن مروان (وفات: 705ء) نے ہیکل کی جگہ 688 عیسوی میں موجودہ مسجد اقصٰی کی تعمیر کی۔
مسجد اقصٰی کیمپس میں ایک اور عمارت ہے، جس کو قُبَّۃ الصَّخْرۃ (Dome of Rock) کہا جاتا ہے۔ یہاں قدیم زمانے سے یہودیوں کا مقدس صخرہ (چٹان) واقع تھا۔ اسی صخرہ کے اوپر خلیفہ عبد الملک بن مروان نے 688 عیسوی میں موجودہ قبہ (گنبد) کی تعمیر کی۔ یہی مقدس چٹان، یا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues