قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۲
قبۃ الصخرہ ، یہودیوں کا قبلہ تھا ، اور یہی قبۃ الصخرہ ، نہ کہ مسجد اقصیٰ ، ہجرت کے بعد عارضی طور پر پیغمبر اسلام کا قبلہ بنا تھا۔ صخرہ سنگِ خارا کی ایک چوکور چٹان ہے۔ اس چٹان کو یہودی اپنے لیے مقدس سمجھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ، یہی وہ صخرہ ہے جس پر حضرت ابراہیم نے اپنے بیٹے کی قربانی پیش کی تھی ۔ اصلاً اسی قبۃ الصخرہ کا نام بیت المقدس ہے ، اور توسیعی معنوں میں ، قدیم یروشلم کے پورے علاقے کو بیت المقدس کہا جاتا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کو فلسطینی جد و جہد کی علامت سمجھا جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ مسلمان عام طور پر ، مسجدِ اقصیٰ کو قبلہ اول‘‘ سمجھتے ہیں ، حالاں کہ قبلہ اوّل کا کوئی تعلق ، مسجدِ اقصیٰ سے نہیں ۔ قبلہ اول اگر کوئی ہو سکتا ہے ، تو وہ قبۃ الصخرہ (بیت المقدس) ہے ، نہ کہ مسجد اقصیٰ ۔ مزید یہ کہ پیغمبر اسلام جب مکہ میں تھے ، تو آپ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھتے تھے۔ ہجرت کے بعد آپ نے تقریباً 16 مہینے تک ، قبۃ الصخرہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھی۔ اس کے بعد ، خدا کے حکم کے مطابق ، آپ دوبارہ کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنے لگے۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو قبۃ الصخرہ درمیانی قبلہ ہے ، نہ کہ پہلا قبلہ ۔ اس حقیقت کی روشنی میں دیکھیے تو قبلہ اوّل کی بازیابی‘‘ کا لفظ سرتا سر بے اصل ہے۔ اگر اس مفروضہ بازیابی کو مسجدِ اقصیٰ سے منسوب کیا جائے تو مسجدِ اقصیٰ کبھی بھی پیغمبر اسلام کا قبلہ نہ تھی۔ ہجرت (622ء) کے وقت وہاں صرف یہودی ہیکل کی خالی جگہ (site) تھی ، نہ کہ موجودہ قسم کی کوئی مسجد ۔ اور جہاں تک قبۃ الصخرہ کی بات ہے ، اس کی بازیابی کا کوئی سوال نہیں۔ وہ پہلے بھی یہودی قبلہ تھا ، اور اب بھی وہ یہودی قبلہ ہے ۔ قبۃ الصخرہ کی بازیابی کا مطالبہ اُسی طرح غیر معقول ہے ، جیسے مشرک گروہ کعبہ کی واپسی کا مطالبہ کرے ، یہ کہہ کر کہ وہ کبھی اُن کے بتوں کا مرکز تھا۔
بالفور ڈکلیریشن کے تحت 1948 میں جب یہودی باہر سے آکر فلسطین میں بسنے لگے ، تو اْس وقت عربوں کی طرف سے صرف ایک ردِ عمل سامنے آیا ، اور وہ مسلح جہاد کا ردِ عمل تھا۔ عرب ممالک نے فلسطینیوں کو بہت بڑے پیمانے پر مالی امداد دینا شروع کیا۔ یہودی ریاست کے خلاف متشددانہ کارروائیوں کے ذریعے یہ کوشش کی جانے لگی کہ اس کا بالکل خاتمہ کر دیا جائے۔ لیکن عربوں کو اپنے اس
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues