Al-Risala · October 2009 · page 23

قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۳

متشددانہ منصوبے میں کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

یہ بلاشبہ عرب رہ نماؤں کی غلطی تھی۔ یہ عرب رہ نما اگر اسلامی تاریخ سے سبق لیتے، تو اُن کو معلوم ہوتا کہ ان کے لیے ایک اور زیادہ بہتر انتخاب (better choice) موجود ہے۔ وہ یہ کہ وہ ان آنے والے یہودیوں کا ایک پڑوسی کی حیثیت سے استقبال کریں اور فلسطین کے ڈیولپ مینٹ میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ یہ یہودی زیادہ تر مغربی ملکوں سے آئے تھے۔ ان کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد پر مشتمل تھی۔ وہ جدید علوم میں مہارت رکھتے تھے۔ وہ عربوں کے لیے ترقیاتی عمل میں بہترین پارٹنر بن سکتے تھے۔ مگر جذباتیت کے طوفان میں عرب رہ نما معاملے کے اس مثبت پہلو کو سمجھنے سے قاصر رہے۔

حالاں کہ اسلام کی تاریخ میں مسلم اور یہود کے درمیان اس تعاون (collaboration) کی نہایت اعلیٰ مثال موجود تھی۔ بعد کے زمانے میں جب بڑی بڑی مسلم حکومتیں قائم ہوئیں، تو اُس زمانے میں مسلمانوں نے ایک نیا کام شروع کیا— قدیم علمی کتابیں جو یونانی اور دوسری زبانوں میں تھیں، اُن کا ترجمہ عربی زبان میں کرنا، اس مقصد کے لیے مختلف ملکوں سے غیر عربی کتابیں بڑی تعداد میں منگائی گئیں۔ اسی واقعے کو خواجہ الطاف حسین حالی (وفات: 1914) نے اپنی مسدس میں ان الفاظ میں بیان کیا ہے:

حریم خلافت میں اونٹوں پہ لد کر چلے آتے تھے مصرو یوناں کے دفتر اس مقصد کے لیے عباسی دورِ حکومت میں بغداد میں بہت بڑا دارالترجمہ قائم ہوا جس کو بیت الحکمت (832ء) کہا جاتا تھا۔ اسی طرح دولت فاطمیہ نے قاہرہ میں اسی مقصد کے لیے دارالحکمت (1005ء) قائم کیا۔ ان اداروں کے تحت، بڑی تعداد میں قدیم کتابوں کے عربی ترجمے کیے گئے۔ اس کے بعد جب عرب، اندلس (اسپین) میں داخل ہوئے، اور وہاں اپنی حکومت بنائی، تو قرطبہ اور غرناطہ میں بڑے بڑے تعلیمی اور تصنیفی ادارے قائم کیے گئے۔ اس طرح جو عربی ترجمے کیے گئے، وہ جلد ہی لاطینی زبان میں ترجمہ ہو کر یورپ میں پھیلے۔ یہ صرف ترجمے کا کام نہ تھا، بلکہ عین اُسی

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page