قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۴
کے ساتھ مختلف شعبوں میں تحقیق کا کام بڑے پیمانے پر جاری رہا۔ اس طرح جو علمی ترقیاں ہوئیں، اُس کے براہ راست نتیجے کے طور پر یورپ میں نشاة ثانیہ (Renaissance) کا واقعہ پیش آیا۔ اس طرح اُس زمانے کے مسلمانوں نے قدیم روایتی دور اور جدید سائنسی دور کے درمیان پل کا کام کیا۔ اس واقعے کا اعتراف عام طور پر مغربی مؤرخین نے کیا ہے۔ مثال کے طور پر رابرٹ بریفالٹ (وفات: 1948) نے اس معاملے میں عربوں کے رول کا اعتراف کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ــ یہ بہت زیادہ قرینِ قیاس ہے کہ عربوں کے بغیر جدید صنعتی تہذیب سرے سے پیدا ہی نہ ہوتی: It is highly probable that but for the Arabs, modern industrial civilization would never have arisen at all. (Robert Briffault, Making of Humanity, p. 190)
علم و تحقیق کے میدان میں عربوں نے یہ عظیم کارنامہ کس طرح انجام دیا، جب کہ اس سے پہلے اس قسم کے کسی علمی کارنامے کی روایت عربوں کے یہاں موجود نہیں تھی۔ جواب یہ ہے کہ یہ کارنامہ انھوں نے تعاون (collaboration) کی طاقت سے انجام دیا۔ اُس زمانے کے عربوں نے عراق اور مصر اور اسپین میں علم و تحقیق کے جو ادارے بنائے، اُس میں انھوں نے مسیحی اسکالر اور یہودی اسکالر کی خدمات بڑے پیمانے پر حاصل کیں۔ ان اداروں میں عرب علماء اور غیر عرب اسکالر مل کر کام کرتے تھے۔ اس تعاون کا نتیجہ وہ شان دار علمی تاریخ ہے، جو قرونِ وسطی کے زمانے میں بنی، اور جس کی بنیاد پر مغربی یورپ نے مزید اعلیٰ ترقی حاصل کی (تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو ــــ پروفیسر فلپ کے ہٹی کی کتاب : تاریخِ عرب (History of the Arabs) ۔
1948 کے بعد یہی امکان دوبارہ فلسطینیوں کے لیے پیدا ہوا تھا، لیکن جذبات سے مغلوب، عرب رہنماؤں نے غلط رہ نمائی کر کے ان کو تعاون کے بجائے ٹکراؤ کے راستے پر ڈال دیا۔ ایک عظیم تاریخ بنتے بنتے رہ گئی۔ اس امکانی تاریخ کا ایک چھوٹا سا نمونہ عربوں کے زیر اقتدار فلسطین، اور یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا تقابل کر کے دیکھا جا سکتا ہے۔ یہود کے زیر اقتدار فلسطین کا یہ حال ہے کہ جہاں 1948 میں خشک صحرا دکھائی دیتا تھا، وہاں آج زراعت اور باغ بانی (horticulture) کی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues