Al-Risala · October 2009 · page 25

قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۵

سرسبز دنیا نظر آتی ہے۔ اس کے برعکس، فلسطین کا جو حصہ عربوں کے زیر اقتدار ہے، وہاں اب بھی پس ماندگی کی وہی حالت ہے جو 1948 میں وہاں پائی جاتی تھی۔

فلسطین کے لوگ اپنے نادان رہ نماؤں کی رہ نمائی میں ایک بے نتیجہ لڑائی لڑ رہے ہیں۔ پہلے اُن کا نشانہ یہ تھا کہ وہ فلسطین کو 1948 سے پہلے کی حالت پر لے جائیں۔ اب ان کا نشانہ فلسطین کو 1967 سے پہلے کی حالت کی طرف لے جانا ہے۔ یہ دونوں نشانے بلاشبہ ناممکن ہیں۔ یہ تاریخ کے سفر کو پیچھے کی طرف لوٹانے کے ہم معنی ہے، اور تاریخ بتاتی ہے کہ ایسا کبھی کسی کے لیے ممکن نہیں ہوا۔ فلسطینیوں کے لیے پہلا انتخاب یہ تھا کہ وہ 1948 کے اسٹیٹس کو (statusquo) پر راضی ہو جائیں۔ اب ان کے لیے دوسرا ممکن انتخاب یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو موجودہ اسٹیٹس کو پر راضی کر لیں۔ اگر انھوں نے اس دوسرے انتخاب کو بھی کھو دیا، تو اس کے بعد کوئی تیسرا انتخاب ان کے لیے کبھی پیش آنے والا نہیں۔ اب تیسرا انتخاب ان کے لیے صرف تباہی اور بربادی کا انتخاب ہے، نہ کہ زندگی اور کامیابی کا انتخاب۔ اسٹیٹس کو ازم (statusquoism) کا مطلب ہے ــ حالتِ موجودہ کو تبدیلی کے بغیر مان لینا ۔ یہ کوئی کم زوری کی بات نہیں، یہ ایک اعلیٰ قسم کی دانش مندانہ پالیسی کا نام ہے۔ فطرت کے نظام کے مطابق، اس دنیا میں ہمیشہ اور ہر ایک کے لیے کوئی نہ کوئی نزاعی مسئلہ موجود رہتا ہے۔ اسی کے ساتھ خود نظامِ فطرت کا یہ تقاضا ہے کہ ہر صورتِ حال میں کام کرنے کے مواقع بھی موجود ہوں ۔ ایسی حالت میں نتیجہ خیز پالیسی (result-oriented policy) یہ ہے کہ آدمی مسائل (problems) کو نظر انداز کرے اور مواقع (opportunities) کو استعمال کرے۔ نزاعی مسائل سے الجھنا ہمیشہ हमेशा اس قیمت پر ہوتا ہے کہ مسائل تو ختم نہ ہوں، لیکن قیمتی مواقع استعمال ہونے سے رہ جائیں۔ فلسطین میں عرب رہ نما لمبی مدت سے کھوئی ہوئی زمین (land) کے لیے لڑ رہے ہیں۔ مگر نتیجے کے اعتبار سے دیکھیے تو اُن کی ساری کوششیں اور قربانیاں سرتا سر رائیگاں ہو گئیں۔ وہ اپنے نشانے کے مطابق، زمین (land) تو حاصل نہ کر سکے، البتہ یہ نقصان اُن کے حصے میں آیا کہ وہ قیمتی مواقع کو استعمال (avail) کرنے سے محروم رہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page