قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۶
موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے۔ قدیم زرعی دور میں ساری اہمیت زمین کی ہوا کرتی تھی، مگر جدید کمیونیکیشن کے زمانے میں زمین ایک ثانوی اہمیت کی چیز بن گئی ہے۔ اب ساری اہمیت مواقع کی ہے، جو گلوبلائزیشن کے نتیجے میں ہر شخص کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اب ایک شخص بظاہر ایک محدود جگہ پر رہتے ہوئے بھی ساری دنیا کے مواقع کو اپنے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ ایسی حالت میں زمین (land) کے حصول کے لیے لڑنا، ایک قسم کی خلافِ زمانہ روش (anachronism) ہے، جو کبھی کسی کے لیے مثبت نتیجہ پیدا کرنے کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔
فلسطین کی موجودہ صورتِ حال ایک بحران (crisis) کی صورتِ حال ہے۔ یہ صورتِ حال نہ عربوں کے لیے مفید ہے اور نہ اسرائیل کے لیے مفید۔ دونوں کے بہترین مفاد میں یہ بات ہے کہ دونوں معتدل ذہن کے ساتھ مسئلے پر غور کریں اور صورتِ حال کو نارمل بنانے کے لیے کوئی نیا فیصلہ لیں۔ تاہم اس معاملے میں دونوں فریق کو حقیقت پسندی سے کام لینا ہوگا۔ کوئی ایسی شرط جو دونوں فریقوں کے لیے یکساں طور پر قابلِ قبول نہ ہو، وہ صرف ایک خیالی شرط ہوگی، نہ کہ حقیقت پسندانہ شرط۔ میری فہم کے مطابق، اس معاملے کا قابلِ عمل حل صرف ایک ہے، وہ یہ کہ عرب حضرات اپنی طرف سے ہر قسم کے تشدد کو کامل طور پر چھوڑ دیں۔ یہ ایک لازمی شرط ہے۔ اس شرط کو پورا کیے بغیر مسئلے کے حل کی بات کرنا، ایک خیالی دنیا میں سفر کرنا ہے، اور ایسا سفر کبھی واقعہ نہیں بنتا۔ جہاں تک اسرائیل کا تعلق ہے، اس کو بھی ایک لازمی شرط کو پورا کرنا ہوگا، وہ یہ کہ اسرائیل، فلسطین میں مقیم عربوں کو وہی حقوق دے، جو اسرائیلی دستور کے رُو سے، اس کے حدود میں رہنے والے باشندوں کو حاصل ہیں۔ یعنی عرب لوگ اسرائیل کے خلاف اپنے تشدد کو کامل طور پر چھوڑ دیں، اور اسرائیل اپنے دستور اور حقوقِ انسانی (human rights) کے عالمی اصول کے مطابق، فلسطینی عربوں کو مساوی بنیاد پر اُن کے تمام ضروری حقوق دے دے۔ یہ دو باتیں اگر اصولی طور پر مان لی جائیں، تو ان کی بنیاد پر پر امن باہمی گفت و شنید (negotiation) کے ذریعے ایک عملی نظام بنایا جا سکتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues