Al-Risala · October 2009 · page 27

قبلۂ اَوّل کی بازیابی کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۷

عام طور پر زمین برائے امن (land for peace) کی بات کی جاتی ہے، یعنی زمین دو اور امن لو۔ مگر اپنے علم اور تجربے کی بنیاد پر میں اس تجویز کو قطعی طور پر ناقابل عمل سمجھتا ہوں۔ اس معاملے میں جو چیز قابل عمل ہے، وہ صرف حقوق برائے امن (right for peace) ہے، یہی اس معاملے میں واحد قابل عمل فارمولا ہے۔ اس فارمولے کا سب سے بڑا فائدہ یہ ہے کہ اس کو ماننے کی صورت میں عربوں کو فوری طور پر ایک نقطۂ آغاز (starting point) مل جائے گا۔ اس وقت فلسطینی تحریک ایک بندگلی (blind alley) میں پھنسی ہوئی ہے۔ مذکورہ تجویز کو اختیار کرنے کی صورت میں یہ ڈیڈلاک (deadlock) فوری طور پر ختم ہو جائے گا، اور عربوں کو یہ کھلا موقع مل جائے گا کہ وہ ترقی کی شاہ راہ پر اپنا سفر شروع کر دیں۔

فلسطین کے معاملے میں تمام دنیا کے مسلمان، عرب اور غیر عرب دونوں، ایک ہی بات کہتے رہتے ہیں، وہ یہ کہ اسرائیل قبضہ کی ہوئی زمین کو واپس کرے، تو فلسطینی اپنی متشددانہ کارروائیوں کو بند کردیں گے۔ اس تجویز کو السّلام مع العدل (peace with justice) کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ معلوم ہے، بے شمار کوششوں کے باوجود یہ تجویز عمل میں نہ آسکی۔ اس ناکامی کا سبب صرف ایک ہے، اور وہ یہ کہ یہ فارمولا ایک غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ہے، اور کوئی غیر حقیقت پسندانہ فارمولا ،حقائق کی اس دنیا میں کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا۔ یہ دنیا فطرت کے اٹل قوانین پر چل رہی ہے۔ اس دنیا میں وہی فارمولا کامیاب ہوسکتا ہے، جس کو فطرت کے قوانین کی حمایت حاصل ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونِ فطرت کے مطابق، عدل (justice) امن (peace) کا حصہ نہیں عدل کو امن کے ساتھ بریکٹ کرنا، گریمر کے اعتبار سے درست ہوسکتا ہے، لیکن حقیقت کے اعتبار سے وہ ہرگز درست نہیں ۔ کیوں کہ عدل جب بھی کسی کو ملتا ہے، وہ خود اپنی محنت سے ملتا ہے۔ ایسا نہیں ہوسکتا کہ امن کے قیام سے کسی کو عدل حاصل ہو جائے۔

اصل یہ ہے کہ امن کے قیام سے جو چیز حاصل ہوتی ہے، وہ صرف مواقع کار ہیں۔ امن کسی شخص، یا گروہ کے لیے مواقع کا دروازہ کھولتا ہے۔ عدل کے حصول کا کام اس کے بعد شروع ہوتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page