Al-Risala · October 2009 · page 28

The environs of which, We have blessed.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۸

اور وہ یہ کہ کھلے ہوئے مواقع کو استعمال کر کے اپنے لیے مطلوب عدل حاصل کیا جائے۔ خدا کے فضل سے میں نے تین بار فلسطین کا سفر کیا ہے۔ پہلی بار اگست 1995 میں، دوسری بار اکتوبر 1997 میں اور تیسری بار اکتوبر 2008 میں۔ اس طرح میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ مجھے فلسطین کو براہِ راست دیکھنے کا موقع ملا ہے۔ اس کے علاوہ بہت سے فلسطینی مسلمانوں سے میری ملاقات ہوئی ہے، دہلی کے اندر اور دہلی کے باہر۔ فلسطین کے بارے میں، میں نے بہت سی کتابیں بھی پڑھی ہیں۔ اپنے تجربات کی بنا پر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ فلسطینی قوم ایک زندہ قوم ہے۔ فلسطینی لوگ عام طور پر اعلیٰ صلاحیت کے مالک ہوتے ہیں۔ وہ ’’علم اور جسم‘‘ دونوں میں ممتاز حیثیت کے حامل ہوتے ہیں۔ ایسا ہونا بالکل فطری ہے۔ کیوں کہ وہ ایک ایسے جغرافی علاقے میں پرورش پاتے ہیں، جس کے بارے میں، قرآن میں یہ الفاظ آئے ہیں: الّذی باركنا حوله (الإسراء: 1) یعنی جس کے ماحول کو ہم نے بابرکت بنایا ہے:

The environs of which, We have blessed.

فلسطینی لوگ اپنے ممتاز فطری اوصاف کی بنا پر بہت بڑے بڑے کام کر سکتے ہیں، وہ ہر میدان میں اعلیٰ ترقی کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن دورِ جدید کا یہ ایک انوکھا المیہ ہے کہ فلسطین کی یہ بالقوہ صلاحیت (potential) اُن کے حق میں بالفعل (actual) واقعہ نہ بن سکی۔ اس المیہ کا واحد سبب یہ ہے کہ فلسطین کے لیڈروں نے فلسطینیوں کو نفرت اور تشدد کے راستے پر ڈال دیا۔ انھوں نے غلط طور پر زمین (land) کو سب کچھ سمجھ لیا۔ وہ زمین کو حاصل کرنے کے لیے اپنی جانیں دے رہے ہیں۔ اُن کو معلوم نہیں کہ ایک فلسطینی کی زندگی اِس زمینی خطہ سے ہزاروں گُنا زیادہ قیمتی ہے، جس کو حاصل کرنے کے لیے وہ ناکام کوشش کر رہے ہیں۔ اگر یہ فلسطینی جدید امکانات سے باخبر ہوتے، تو یقیناً وہ جان لیتے کہ ان امکانات کو استعمال کر کے وہ نہ صرف فلسطین کی سطح پر، بلکہ عالمی سطح پر بڑی بڑی ترقیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

آخری بات یہ کہ پرامن عمل اور متشددانہ عمل کا معاملہ کوئی سادہ معاملہ نہیں۔ یہ براہِ راست

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page