The environs of which, We have blessed.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۹
طور پر قانونِ فطرت کا معاملہ ہے۔ فطرت کے قانون کے مطابق، پُرامن عمل انسان کی تخلیقیت (creativity) کو بڑھاتا ہے۔ جو گروہ ایسا کرے کہ وہ پر امن ذرائع تک محدود رہتے ہوئے اپنی جدوجہد کو جاری کرے، ایسا گروہ، فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن تخلیقی گروہ (creative group) بنتا چلا جائے گا۔ اس کے برعکس، جو گروہ نفرت اور تشدد کا طریقہ اختیار کرے، وہ فطرت کے قانون کے مطابق، دن بدن غیر تخلیقی گروہ (uncreative) بنتا چلا جائے گا۔
یہ فطرت کا اٹل قانون ہے۔ اس میں کسی کا کوئی استثناء نہیں۔ پر امن طریقہ کار ہمیشہ کسی گروہ کو تخلیقی گروہ بناتا ہے۔ اس کے برعکس، نفرت اور تشدد کا طریقہ ہمیشہ غیر تخلیقیت کی طرف لے جاتا ہے۔ کوئی بھی دوسرا عمل اس نقصان کی تلافی نہیں بن سکتا۔ قانونِ فطرت کے مطابق، اس دنیا میں تمام کامیابیاں تخلیقی گروہ کے لیے مقدّر رہیں، اور تمام ناکامیاں غیر تخلیقی گروہ کے لیے۔ قضیۂ فلسطین کا حل ابوسعید الخدری الانصاری (وفات: 74ھ / 693ء) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی ہیں۔ اُن سے 1170 حدیثیں مروی ہیں۔ انھوں نے پیغمبر اسلام سے سنا ہوا ایک قول ان الفاظ میں نقل کیا ہے: يخرج رجل من أمتى يقول بسنتى، ينزل الله عزّ وجلّ له القطر من السماء وتخرج الارض بركتها، وتملأ الأرض منه قسطاً وعدلاً كما ملئت جوراً وظلماً، يعمل على هذه الأمة سبع سنين، وينزل بيت المقدس (رواه الطّبراني في معجمه الأوسط ، جلد 2، صفحہ 15) یعنی میری امت میں سے ایک آدمی نکلے گا۔ وہ میری سنت کے مطابق کلام کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے آسمان سے بارش نازل کرے گا۔ اور زمین اپنی برکت نکال دے گی۔ اور اس کے ذریعے سے زمین عدل اور قسط سے بھر دی جائے گی، جس طرح وہ ظلم اور جور سے بھر دی گئی تھی۔ وہ اس امت میں سات سال تک کام کرے گا۔ اور وہ بیت المقدس میں اُترے گا۔ اس حدیث رسول میں پیشگی طور پر یہ بتایا گیا ہے کہ تاریخ کے آخری زمانے میں ایک اہم واقعہ ہوگا۔ یہ واقعہ بیت المقدس (فلسطین) کے حوالے سے پیش آئے گا۔ یہ واقعہ اس بات کی علامت ہوگا
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues