Al-Risala · October 2009 · page 30

The environs of which, We have blessed.

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰

کہ قیامت بہت قریب آچکی ہے۔ زمین اپنی برکتیں نکال دے گی‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ اُس زمانے میں مواقع (opportunities) کی بہت زیادہ کثرت ہو جائے گی۔ ان مواقع کو استعمال کر کے یہ ممکن ہو جائے گا کہ دنیا میں امن کی عمومی فضا قائم کی جا سکے۔

اس حدیثِ رسول کی روشنی میں بیت المقدس، یا فلسطین کے مسئلے پر غور کیجیے۔ فلسطین کا مسئلہ اپنی موجودہ صورت میں، بیسویں صدی کے وسط میں پیدا ہوا۔ ابتدائی طور پر یہ مسئلہ عربوں کا ایک قومی، یا جغرافی مسئلہ تھا۔ لیکن تمام مسلمانوں کا مسئلہ بنانے کے لیے اس کو اسلامی مسئلے کی حیثیت سے نمایاں کیا گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے اندر جو تحریکیں اٹھیں، وہ تقریباً سب کی سب، براہِ راست یا بالواسطہ طور پر، فلسطین کے مسئلے کا رد عمل تھیں— الاخوان المسلمون، حماس، القاعدہ، تحریک طالبان، وغیرہ اس کی مثالیں ہیں۔

اس قسم کی مسلم تحریکیں جو موجودہ زمانے میں مختلف علاقوں میں اٹھیں، ان کے مجموعے کو صحوۃ إسلامية (Islamic Ressurgence) کہا جاتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام تحریکیں صحوۃ فلسطينية (Palestinian Ressurgence) ہیں ۔ فلسطین کا مسئلہ ان تحریکوں میں براہِ راست طور پر شامل ہے، یا بالواسطہ طور پر۔

فلسطین کا مسئلہ اپنی فعّال صورت میں 1948 میں شروع ہوا۔ اس کے بعد تمام دنیا کے مسلم رہ نما منفی رد عمل میں مبتلا ہو گئے۔ مسلمانوں کے درمیان نفرت اور تشدد کی تحریکیں چل پڑیں۔ اس نفرت اور تشدد کا پہلا نشانہ اسرائیل تھا اور اس کے بعد برطانیہ اس کا نشانہ بن گیا، کیوں کہ برطانیہ (Biritish Empire) نے بال فور ڈکلریشن کے تحت، اسرائیل کو قائم کیا تھا۔ اس کے بعد نفرت اور تشدد کا یہ مسلم سیلاب امریکا (U.S.A.) کے خلاف متحرک ہو گیا، کیوں کہ امریکا، فلسطین کے ایشو پر اسرائیل کی سر پرستی کرنے لگا تھا۔ اس کے بعد مسلمانوں کے منفی جذبات کا رخ انڈیا جیسے ملکوں تک پھیل گیا جو اسرائیل سے مصالحت کا تعلق قائم کیے ہوئے تھے، یہاں تک کہ منفی جذبات سے بھرے ہوئے یہ مسلمان خود مسلم حکومتوں کے خلاف ہو گئے، کیوں کہ مسلم حکومتیں اسرائیل کے خلاف وہ انتہائی اقدامات

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page