The environs of which, We have blessed.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۲
روشنی میں اس مسئلے کا جو قابلِ عمل منصفانہ حل ممکن ہے، اس کو ذیل میں درج کیا جاتا ہے۔ اس سلسلے میں پہلی بات یہ ہے کہ عرب اور غیر عرب مسلمانوں کی طرف سے اس معاملے میں اب تک جو باتیں کہی جاتی رہی ہیں، اُس میں ہمیشہ یہ ظاہر کرنے کی کوشش کی جاتی ہے کہ فلسطین کا ایشو، ظالم اور مظلوم کا ایشو ہے، یعنی اسرائیل یک طرفہ طور پر ظالم ہے، اور عرب یک طرفہ طور پر مظلوم۔ مسئلے کا بے لاگ جائزہ بتاتا ہے کہ یہ تقسیم ایک غیر حقیقی تقسیم ہے۔
واقعہ یہ ہے کہ اس معاملے میں عرب اور اسرائیل، دونوں کی حیثیت یکساں ہے۔ دونوں میں سے کسی کا کیس بھی عدل اور معقولیت پر مبنی کیس نہیں ہے۔ دونوں فریق ایک دوسرے پر جو الزام دیتے ہیں، وہ خوداُس میں برابری کے درجے میں شریک ہیں۔ خالص اصول کی روشنی میں، دونوں میں سے کسی کا کیس بھی موجودہ حالت میں ، حق پر مبنی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہاں اس سلسلے میں مختصر طور پر چند متعلق پہلوؤں کا ذکر کیا جاتا ہے۔
1 - انیسویں صدی عیسوی کے نصف آخر میں یہود کے درمیان ایک تحریک اُٹھی جس کو صہیونی تحریک (Zionism) کہا جاتا ہے۔ صیہون (Zion) دراصل یروشلم میں واقع ایک پہاڑی کا نام ہے۔ اس پہاڑی کو یہودی لوگ مقدس مانتے ہیں اور اس کو یہودی قومیت کا مرکزی نشان سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر ہرزل (Theodor Herzl) کی قیادت میں 1890 میں صہیونی تحریک شروع ہوئی۔ اس کا پہلا انٹرنیشنل اجلاس 1897 میں سوئزر لینڈ کے شہر باسل (Basel) میں ہوا۔ صہیونی تحریک کا مقصد یہ تھا کہ یہودی ڈائس پورا (Jews in diaspora) کو فلسطین واپس لانا، اور یہاں ان کی نیشنل اسٹیٹ قائم کرنا۔ اس تحریک کے نتیجے میں بال فور کمیشن قائم ہوا، اور اس کی سفارش کے مطابق، 1948 میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔
عرب رہنماؤں نے متفقہ طور پر یہودی ڈائس پورا کی فلسطین واپسی کی مخالفت کی۔ یہ مخالفت اس حد تک پہنچی کہ انھوں نے اسرائیل کے خلاف متشددانہ جہاد شروع کر دیا۔ یہ مخالفانہ تحریک بڑھتی رہی۔ ساری دنیا کا مسلم پریس، اور ساری دنیا کا مسلم مائنڈ عمومی طور پر اس سے متاثر ہو گیا۔ کوئی بھی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues