The environs of which, We have blessed.
الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۳
قابل ذکر مسلمان نہ تھا جو یہ کہے کہ یہودی ڈائس پور ا کو فلسطین آنے کا حق ہے، جس طرح تمام تارکین وطن کو اپنے وطن واپس آنے کا حق ہوتا ہے۔
دوسری طرف، یہودیوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ فلسطین میں جو عرب آباد تھے، ان کی بڑی تعداد اسرائیل کے قیام کے بعد فلسطین چھوڑ کر باہر چلی گئی۔ یہ لوگ عرب ڈائس پورا (Arabs in diaspora) کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اُن عربوں کو بھی اُسی طرح اپنے وطن واپس آنے کا حق ہے، جس طرح یہودیوں کو اپنے وطن واپس آنے کا حق تھا۔ لیکن یہودی، عربوں کے اس حق کو ماننے کے لیے تیار نہیں۔ اس طرح اس معاملے میں دونوں گروہ مشترک طور پر ایک ہی غلطی کا شکار ہیں۔ عرب رہ نما، یہودی ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اِسی طرح یہودی رہ نما، عرب ڈائس پورا کو واپسی کا حق دینے کے لیے تیار نہیں۔ اب جو فریق یہ چاہتا ہو کہ اس کو اس کا یہ جائز حق ملے، اس کو سب سے پہلے یہ کرنا ہوگا کہ وہ اپنے سابقہ موقف کی غلطی کا کھلا اعتراف کرے اور پھر دل سے فریق ثانی کو اس معاملے میں اس کا حق دینے پر راضی ہو جائے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس طرح کے متنازع معاملے میں دوسرے کا حق تسلیم کرنے ہی سے اپنا حق ملتا ہے۔ اگر آپ دوسرے کا حق تسلیم نہ کریں، تو آپ کو اپنا حق بھی ملنے والا نہیں۔ 2- 1948 میں بال فور ڈیکلریشن کے مطابق، اسرائیل کا قیام عمل میں آیا، تو اُس وقت یہود کو فلسطین کا نصف سے کم حصہ ملا تھا۔ بال فور تقسیم کے مطابق، عربوں کے پاس فلسطین کا نصف سے زیادہ حصہ تھا، جس میں یروشلم بھی شامل تھا۔ اسرائیل کا موجودہ تو سیعی رقبہ 1967 کی عرب۔ اسرائیل جنگ کے بعد بنا ہے۔ اس لحاظ سے بین الاقوامی اصول کے مطابق، اسرائیل کی جائز حدود وہی ہیں جو 1948 میں اس کو حاصل تھیں ۔ موجودہ تو سیعی رقبہ، اسرائیل کا جائز حصہ نہیں۔ 1948 میں قائم ہونے والا اسرائیل، بین الاقوامی طور پر ایک مسلمہ ریاست کی حیثیت رکھتا تھا۔ موجودہ تو سیعی رقبہ، اسرائیل کے لیے غیر قانونی قبضہ (illegal occupation) کی حیثیت رکھتا ہے۔
عرب قیادت یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اسرائیل اپنی 1967 کی حد پر واپس چلا جائے۔ عربوں کا یہ مطالبہ خالص اصولی اعتبار سے درست ہے، مگر عملی طور پر وہ ممکن نہیں۔ کیوں کہ عرب رہ نما خود بھی
‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues