Al-Risala · October 2009 · page 45

آمدنی بڑھانے کا مسئلہ

الرسالہ، اکتوبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۵

اپنے کام کے لیے تو پیسہ خرچ کریں اور خدا کے کام کے لیے مفت کریڈٹ کے امیدوار ہوں ۔ میں اپنا آرڈر بھیج رہا ہوں ۔ میں دعوتی لٹریچر خرید کر اس کو اللہ کے بندوں تک پہنچانے کی کوشش کروں گا (مہتاب عالم ، دھام پور ) 10- ماہ نامہ الرسالہ کا تازہ شمارہ باصرہ نواز ہوا۔ جذباتیت اور انتہا پسندی نے ہمیں بہت نقصان پہنچایا ہے۔ الرسالہ اس پہلو سے وقت کی اہم ضرورت ہے۔ اس ناچیز کے نام آپ نے الرسالہ جاری فرمایا ، اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر دے ۔ ( خورشید احمد فلاحی ، محمد اسماعیل فلاحی ، جامعۃ الفلاح ، بلریا گنج اعظم گڑھ ) 11 - محترم و مکرم ، آپ کا ارسال کردہ دعوتی لٹریچر بصد شکر و احسان موصول ہو گیا ہے ۔ الحمد للہ سبھی کتابیں اور برو شر نہایت مفید و کار آمد اور دل چسپ ہیں ۔ آپ کا یہ خوب صورت پیکٹ موصول ہوتے ہی لوگوں کے درمیان تقسیم کرنا شروع کر دیا ہے ، آپ یقین رکھیں کہ ان شاء اللہ یہ کتابیں تقسیم کرنے میں کوتاہی نہیں برتی جائے گی ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ آپ کے توسط سے اس گنہگار کو بھی دعوت کے کام میں قبول کر لے ۔ ( ڈاکٹر انور حسین خاں ، فیض آباد ) 12- میں تین سال سے "الرسالہ" کا قاری ہوں۔ خود بھی پڑھتا ہوں اور اپنے دوستوں اور جان پہچان والوں کو بھی پڑھنے کے لیے دیتا ہوں ۔ اکثر آپ کا حوالہ بطور دلیل پیش کرتا ہوں ۔ آپ کا الرسالہ ہماری محفلوں میں تکیہ کلام ہوتا ہے اور آپ کی تحریر پر کھل کر مباحثہ ہوتا ہے ۔ مسلم امت کا ایک خاص طبقہ آپ کی تحریروں کو پسند کرتا ہے جن کو ہم عرف عام میں انٹلیکچولس کہتے ہیں ۔ الحمد للہ ہم کو بہت فائدہ ہوتا ہے ۔ کشمیر میں آبادی کا ایک بڑا حصہ ذہنی تناؤ ، غصہ اور محرومی کا شکار ہے ۔ میں بذاتِ خود خود ساختہ محرومیوں میں گھرا ہوا تھا ۔ الرسالہ اور آپ کی دیگر کتابوں نے میری منفی سوچ کو مثبت سوچ میں تبدیل کرنے میں مدد کی ۔ دورِ جدید میں الرسالہ کا مسلکی اور گروہی اختلافات میں نہ پڑنا ایک بہترین اصول ہے۔ الرسالہ میرے لیے ”بدلو سوچ ، بدلو زندگی “ جیسا اصول قائم کرتا ہے ۔ الرسالہ کی وجہ سے اصول دعوت اور دعوت کی اہمیت سے واقف ہوں ، ورنہ میں منفی ادب کی وجہ سے خود ساختہ دنیا میں جی رہا تھا ( صفی احمد ، جموں و کشمیر ) 13- ”تذکیر القرآن “ ہمیشہ میرے مطالعہ کی میز پر رہتی ہے ۔ اور جب بھی مجھے کسی سورہ کسی آیت کا ترجمہ یا تفسیر دیکھنے کی ضرورت پڑتی ہے تو سب سے پہلے میں تذکیر القرآن ہی کو دیکھنا پسند کرتا ہوں ۔ اس کے بعد میں دوسری عربی اور اردو کی معروف تفاسیر و تراجم کا مطالعہ کرتا ہوں ۔ تذکیر القرآن میں متنِ قرآن کا جو ترجمہ دیا گیا ہے ، وہ دوسرے اردو تراجم کے مقابلے میں بہت جامع اور اقرب الی القرآن ہے ۔ نیز یہ ترجمہ اس وجہ سے بھی قابل قدر ہے کہ اس ترجمہ میں الفاظ کم مگر مفہوم کی بھر پور ادائیگی کا خیال رکھا گیا ہے ۔ مجھے یاد آ رہا ہے کہ 1990 میں علی گڑھ سے شائع ہونے والے معروف سہ ماہی فکر و نظر کا ایک خصوصی شمارہ ”قرآنیات “ کے عنوان سے شائع ہوا تھا اور اس میں صفحہ 110 پر ایک مضمون میری نظر سے گزرا تھا ۔ اس میں مولانا مودودی ، مولانا امین احسن اصلاحی ، جاوید احمد غامدی اور آپ کے ترجمہ قرآن پر ایک تقابلی مطالعہ پیش کیاگیا ہے اس میں کئی مقامات پر تذکیر القرآن کا ترجمہ مثالیں دے کر زیادہ بہتر اور قابل قدر قرار دیا گیا ہے ۔ ذاتی طور پر مجھے جب بھی اپنے مضامین میں قرآنی آیات کے ترجمہ کی ضرورت پڑتی ہے ، میں ہمیشہ

‹ Previous page Next page › Contents of October 2009 All issues

Printed page