جنت یا جہانِ لذت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴
جنت یا جہانِ لذت
قرآن کی سورہ نمبر 14 میں دنیا کے بارے میں یہ الفاظ آئے ہیں : و آتاکم من کلّ ما سألتموہ (ابراہیم : 34) اس کے مقابلے میں ، جنت کے بارے میں قرآن کی سورہ نمبر 42 میں یہ الفاظ آئے ہیں : ولکم فیہا ما تشتهی أنفسکم (حم السجدة : 31) ان دونوں آیتوں پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ موجودہ دنیا میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ ضرورت دی گئی ہیں۔ اس کے مقابلے میں جنت میں انسان کو تمام چیزیں بقدرِ خواہش دی جائیں گی۔
انسان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک لذت طلب حیوان (pleasure-seeking animal) ہے۔ لذت ایک انوکھی صفت ہے جو صرف انسان کے اندر پائی جاتی ہے۔ انسان کے اندر ہر قسم کی لذتوں کی بے پناہ طلب موجود ہے۔ لیکن موجودہ دنیا میں کسی بھی عورت یا مرد کی خواہشیں پوری نہیں ہوتیں ۔ ہر ایک کے ساتھ یہ ہوتا ہے کہ وہ کامل فل فل مینٹ (fulfilment) کے حصول کے بغیر مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے ، خواہ وہ امیر ہو یا غریب، خواہ وہ عالم ہو یا جاہل، خواہ وہ عام انسان ہو یا کوئی بادشاہ۔ انسان کی لذتوں کی فہرست بہت لمبی ہے۔ لذتِ فکر ، لذتِ بصارت ، لذتِ سماعت، لذتِ ذائقہ ، لذتِ لمس ، لذتِ گفتگو ، لذتِ رفاقت ، لذتِ مطالعہ، لذتِ دریافت، لذتِ مسرت، وغیرہ ۔ ان تمام لذتوں کی طلب انسان کے اندر بے پناہ حد تک موجود ہے، لیکن موجودہ دنیا میں انسان اپنی ان لذتوں کی تکمیل نہیں کر پاتا ۔ وہ اسی کی تلاش میں رہتا ہے، مگر بہت جلد اس کو موت آجاتی ہے۔ موجودہ دنیا میں اُس کو احساسِ لذت کا تجربہ تو ہوتا ہے، لیکن تکمیلِ لذت کا تجربہ اس کو حاصل نہیں ہوتا۔ ایک ملحد فلسفی نے جنت کو ”خوش خیالی“ قرار دیتے ہوئے لکھا ہے کہ جنت انسانی تمناؤں کی خوب صورت تخئیل (beautiful idealization of human wishes) ہے۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ جنت انسان کی خوب صورت تمناؤں کا پوری طرح وقوع میں آنا ہے۔ (beautiful actualization of human wishes)۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues