نماز اور قرآن
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۰
نماز اور قرآن
اسلوب کلام کی دو قسمیں ہیں___ دعوتی اسلوب اور قانونی اسلوب۔ دعوتی اسلوب میں صرف بنیادی باتیں اصولی زبان میں بیان کی جاتی ہیں۔ اس کے برعکس، قانونی اسلوب میں محدود اور متعین زبان (specific language) استعمال ہوتی ہے۔ قرآن اور حدیث کے درمیان یہی فرق ہے۔ قرآن میں عام طور پر دعوتی اسلوب ہے۔ اور حدیث میں دعوتی اسلوب کے علاوہ، قانونی اسلوب بھی پایا جاتا ہے۔ مثلاً نماز کے بارے میں قرآن میں حافظوا علی الصلوات کا لفظ آیا ہے۔ اور حدیث میں تعین کے ساتھ الصلوات الخمس (صحیح البخاری، کتاب الإيمان) کا لفظ استعمال ہوا ہے۔
قرآن میں دین کے تمام اصول (principles) بیان کیے گئے ہیں، لیکن قرآن میں کسی بھی اصول کو محدود اسلوب میں بیان نہیں کیا گیا ہے۔ مثلاً قرآن میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو پیغمبر بنانے کا ذکر ہے، لیکن قرآن سے معلوم نہیں ہوتا کہ آپ کو یہ پیغمبری کب دی گئی۔ قرآن میں ہجرت کا حکم موجود ہے، لیکن مکہ میں دعوتی کام کس طرح ہوا اور مدینہ میں دعوتی کام کس طرح ہوا، اس کی کوئی تفصیل قرآن میں موجود نہیں۔ قرآن میں فتح مبین (الفتح: 1) کا ذکر ہے، لیکن قرآن میں فتح مبین کی متعین تفصیل موجود نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ لوگ فوج در فوج خدا کے دین میں داخل ہوں گے (النصر : 2) لیکن تعینات کی زبان میں اس کا کوئی ذکر قرآن میں موجود نہیں، وغیرہ۔ ان تمام چیزوں کی تفصیل صرف حدیث سے معلوم ہوتی ہے، نہ کہ قرآن سے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو صرف عبادت الہی کے لیے پیدا کیا گیا ہے (الذاریات: 56) یہ بلاشبہ انسانی زندگی کے مقصد کو جاننے کے اعتبار سے نہایت اہم آیت ہے، لیکن عبادت کے متعین طریقے کیا ہوں، اس کا علم صرف حدیث سے ہوتا ہے، نہ کہ قرآن سے۔
یہی معاملہ نماز کا ہے۔ قرآن میں نماز کا بنیادی حکم موجود ہے، مثلاً أقم الصلاة لذكري (طــــــــہ: 14) تاہم جہاں تک نماز کی محدود تفصیلات کا معاملہ ہے، وہ قرآن کے عام اصول کے
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues