Al-Risala · November 2009 · page 11

نماز اور قرآن

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۱

مطابق، قرآن میں موجود نہیں، البتہ حدیث میں اس کی تفصیلات موجود ہیں ۔

اس پہلو سے قرآن کا مطالعہ کیجئے تو معلوم ہوگا کہ نماز کے تمام بنیادی اجزا قرآن میں مذکور ہیں۔ مثلاً قرأت (الإسراء: 78) قیام (المزمّل: 20)، رکوع (البقرۃ: 43)، سجدہ (البقرۃ: 125)، جماعت کے ساتھ نماز (البقرۃ: 43)، وغیرہ۔ اب یہ سوال ہے کہ ان اجزاء نماز کی مجموعی صورت کیا ہے۔ جب آپ ان اجزا کو لے کر نماز کی مجموعی شکل بنانا چاہیں تو آپ نماز کی موجودہ شکل کے سوا کوئی اور شکل نہیں بنا سکتے۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ خدا کی پیدا کی ہوئی دنیا میں ہر چیز اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ اسی طرح نماز بھی اپنے فائنل ماڈل پر ہے۔ یہی واقعہ اس بات کے ثبوت کے لیے کافی ہے کہ نماز کے جو اجزا قرآن میں بتائے گئے ہیں، ان کی مجموعی شکل موجودہ نماز کے سوا کوئی اور نہیں ہو سکتی۔

غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پانچ وقت کی نماز کا حکم استنباطی طور پر قرآن میں موجود ہے۔ یہ حکم قرآن کی سورہ نمبر 2 کی اس آیت میں ملتا ہے: حافظوا علی الصلوات والصلاۃ الوسطیٰ (البقرۃ: 238) یعنی نمازوں کی پابندی کرو، اور بیچ کی نماز کی۔ اس آیت میں’’صلوات‘‘ کا لفظ آیا ہے۔ عربی قاعدے کے مطابق، صلوات کا اطلاق تین یا اس سے زیادہ عدد پر ہوتا ہے، اس کو دو کے معنی میں نہیں لیا جا سکتا۔ اس کو تین یا تین سے زیادہ کے معنی ہی میں لینا ممکن ہے۔ آیت کے الفاظ کے مطابق، اُس کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ ــ تم نمازوں کی پابندی کرو، اور اُس نماز کی پابندی کرو جو ان نمازوں کے درمیان میں آتی ہے۔ اب اگر صلوات سے صرف تین نمازیں مراد لی جائیں تو ایسی صورت میں ان کی کوئی درمیانی نماز نہیں بنے گی، کیوں کہ تین نمازوں کی صورت میں ایک طرف ایک نماز ہوگی اور دوسری طرف دو نماز۔ ایسی حالت میں ممکن صورت صرف یہ ہے کہ صلوات سے چار نمازیں مراد لی جائیں۔ اس سے چار نماز مراد لینے کی صورت میں ایسا ممکن ہو جاتا ہے کہ اُن میں ایک اور نماز اس طرح شامل کی جائے کہ وہ بیچ کی نماز بن جائے۔ ایسی صورت میں بیچ کی نماز کے ایک طرف دو نماز ہوتی ہے، اور دوسری طرف بھی دو نماز ــ اس طرح مجموعی طور پر کل پانچ

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page