Al-Risala · November 2009 · page 13

تكفير يا تبلیغ

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

تكفير يا تبلیغ

ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے۔ صحیح البخاری کے الفاظ یہ ہیں: إذا قال الرجل لأخيه يا كافر، فقد باء به أحدهما (كتاب الأدب، باب من أكفر أخاه)

یعنی جب ایک شخص اپنے بھائی کے بارے میں کہے کہ اے کافر، تو یہ قول دونوں میں سے کسی ایک کی طرف ضرور لوٹے گا۔ یعنی مخاطب اگر کافر نہ ہو، تو خود قائل خدا کے نزدیک کافر ہو جائے گا۔ صحیح مسلم میں کتاب الایمان کے تحت، اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے امام النووی نے لکھا ہے کہ: واعلم أن مذهب أهل الحق أنه لا يُكفّر أحد من أهل القبلة بذنب (شرح النووی، جلد 1، صفحہ 150) یعنی اہل حق کا یہ مسلک ہے کہ کسی بھی گناہ پر اہل قبلہ میں سے کسی شخص کی ہرگز تکفیر نہیں کی جائے گی، یعنی جو شخص کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھے، اس کی تکفیر نہیں کی جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی انسان کو کافر قرار دینا صرف خدا کا کام ہے، وہ کسی انسان کا کام نہیں۔ ایمان اور کفر دونوں کا تحقق نیت پر ہوتا ہے، اور نیت کا علم خدا کے سوا کسی اور کو نہیں۔ اس لیے یہ صرف خدا کا کام ہے کہ وہ کسی کے بارے میں کافر یا مومن ہونے کا فیصلہ فرمائے۔ انسان کا کام صرف یہ ہے کہ وہ کسی کو غلطی پر دیکھے تو وہ اس کو دل سوزی کے ساتھ تبلیغ اور نصیحت کرے، وہ اس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا کرے۔ تکفیر گویا کہ خدا کے دائرے میں داخل ہونا ہے، اور خدا کے دائرے میں داخل ہونے کا حق کسی کو بھی نہیں۔

جو شخص دوسرے کو کافر بتائے، وہ خود اپنے بارے میں یہ اعلان کر رہا ہے کہ میرے سینے میں لرزاں اور ترساں قلب نہیں ۔ جو آدمی حقیقی معنوں میں اللہ سے ڈرتا ہو، وہ کبھی ایسا نہیں کر سکتا کہ وہ کسی کے بارے میں کفر کا اعلان کرے، جب کہ یہ قطعی اندیشہ ہے کہ اگر مخاطب کافر نہ ہو تو خود کہنے والا شخص خدا کے نزدیک کافر قرار پا جائے گا۔ کوئی بھی اللہ سے ڈرنے والا انسان یہ خطرناک رسک (risk) لینے کا تحمل نہیں کر سکتا۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page