Al-Risala · November 2009 · page 14

ایک اجتماعی ضرورت

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۴

ایک اجتماعی ضرورت

حضرت مقدام بن معد یکرب سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إذا أحبّ الرجل أخاه فليخبره أنه يحبّه (أبو داؤد، كتاب الأدب؛ الترمذی، كتاب الزهد ) یعنی جب کسی شخص کو اپنے بھائی سے محبت ہو تو وہ اُس کو بتا دے کہ وہ اُس سے محبت کرتا ہے۔ اِس حدیث رسول میں محبت سے مراد مخلصانہ محبت یا حقیقی محبت ہے، نہ کہ منافقانہ محبت۔ مخلصانہ محبت ایک قابلِ اجر عمل ہے، جب کہ منافقانہ محبت صرف ایک گناہ کا عمل ۔ منافقانہ محبت کا اظہار آدمی کو مزید گنہگار بناتا ہے، وہ اِس کو اجر کا مستحق نہیں بناتا۔

مخلصانہ محبت یا حقیقی محبت ایک عظیم دینی عمل ہے۔ مخلصانہ محبت کوئی آسان کام نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر ذاتی بنیاد پر دو آدمیوں کے درمیان محبت ہو تو وہ بہت جلد ٹوٹ جاتی ہے۔ مخلصانہ محبت وہ ہے جو خدا کے لیے ہو، اور جب دو آدمیوں کے درمیان خدا کے لیے محبت ہو تو وہ ہمیشہ باقی رہتی ہے، وہ کبھی ٹوٹنے والی نہیں۔

اِس حدیث میں محبت سے مراد محبت اور اِس کے تمام لوازم ہیں۔ مثلاً اعتراف، وغیرہ۔ محبت یا لوازمِ محبت کو بتانے کی حکمت یہ ہے کہ اس سے دو افراد کے درمیان مثبت تعلق قائم ہوتا ہے۔ اگر محبت یا لوازمِ محبت کو نہ بتایا جائے تو اِس سے غلط فہمیاں پیدا ہوتی ہیں، اور غلط فہمی جب دیر تک باقی رہے تو وہ پختہ ہو جاتی ہے اور قلبی محبت کے باجود دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف منفی نفسیات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

منافقانہ طور پر اظہارِ محبت یا اظہارِ اعتراف جتنا زیادہ برا ہے، مخلصانہ طور پر اظہارِ محبت یا اظہارِ اعتراف اتنا ہی زیادہ ضروری ہے۔ اس مسئلے کی اہمیت شرعی نہیں، بلکہ نفسیاتی ہے۔ یہ اجتماعی زندگی کو صالح بنیادوں پر قائم کرنے کے لیے ضروری ہے، کیوں کہ دل کی حالت کا علم صرف خدا کو ہوتا ہے۔ انسان کسی کے دل کو نہیں پڑھ سکتا، وہ صرف بتانے کے بعد ہی اس کو جانتا ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page