ایک اجتماعی ضرورت
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵
فطرت کا نظام
حضرت ابو ہریرہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: إِنَّ الله ليؤيد هذا الدين بالرجل الفاجر (صحیح البخاری، كتاب الجهاد والسير، با ب إِنَّ الله يؤيّد الدين ) یعنی اللہ بے شک اس دین کی تائید فاجر شخص کے ذریعے بھی کرے گا۔
اس حدیث کا تعلق سادہ طور پر صرف دین اسلام سے نہیں ہے۔ اس حدیث میں دراصل فطرت کے ایک قانون کو بتایا گیا ہے۔ یہ قانون ابدی بھی ہے اور ہر ایک کے لیے عام بھی۔ اصل یہ ہے کہ خالق نے اس دنیا کا نظام باہمی انحصار (interdependence) کے اصول پر قائم کیا ہے۔ اس دنیا میں ہر انسان بالواسطہ یا براہِ راست طور پر دوسرے انسانوں سے جڑا ہوا ہے۔ جب بھی کوئی شخص ایک کام کرتا ہے تو اس میں یقینی طور پر دوسروں کا بھی حصہ ہوتا ہے۔ اس دنیا میں ہر کامیابی کا تعلق مشترک عمل سے ہوتا ہے، خواہ وہ دینی کامیابی ہو یا دنیوی کامیابی۔ فطرت کا یہ نظام اِس لیے ہے، تاکہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے اعتراف کا جذبہ پیدا ہو، تاکہ لوگ ایک دوسرے کو اپنا خیر خواہ سمجھیں، تاکہ پوری دنیا ایک بڑے خاندان کے مانند ہو جائے، تاکہ ہر ایک دوسرے کو اپنے بھائی اور بہن کے روپ میں دیکھنے لگے۔ باہمی تعاون کے اس عالمی نظام کے باوجود کیوں ایسا ہے کہ لوگوں میں ایک دوسرے کا اعتراف نہیں۔ اس کا بنیادی سبب لوگوں کی فخر پسندی (pride) ہے۔ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ وہ فخر میں جی رہے ہیں۔ فخر کے جذبے کی تسکین صرف اُس وقت ہوتی ہے، جب کہ آدمی یہ سمجھے کہ جو کچھ اِس کو ملا ہے، وہ اس کی اپنی ذاتی صلاحیت کی بنیاد پر ملا ہے۔ فخر کا جذبہ اپنی تسکین کے لیے سارا کریڈٹ خود لینا چاہتا ہے۔ اس بنا پر وہ دوسروں کا اعتراف نہیں کر پاتا۔ یہ رویہ سرتا سر فطرت کے خلاف ہے۔ اس سے غیر حقیقت پسندانہ (unrealistic) مزاج پیدا ہوتا ہے، اور غیر حقیقت پسندانہ مزاج سے زیادہ تباہ کن کوئی اور چیز اس دنیا میں نہیں۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues