Al-Risala · November 2009 · page 16

بے اعترافی کا مزاج

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۶

بے اعترافی کا مزاج

ابلیس نے تخلیق آدم کے وقت اپنے اس منصوبے کا اعلان کیا تھا کہ وہ نسلِ انسانی کی بڑی تعداد کو گم راہی میں ڈال دے گا (الاسراء: 62)۔ یہ گم راہی کیا ہے۔ یہ گم راہی خود شیطان کے رویے سے معلوم ہوتی ہے۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ تخلیق آدم کے وقت ابلیس نے آدم کا اعتراف نہیں کیا، یہاں تک کہ وہ ابدی طور پر ساری نسلِ انسانی کا دشمن بن گیا (یوسف: 5) جیسا کہ قرآن سے معلوم ہوتا ہے، ہر انسان کے ساتھ غیر مرئی طور پر (invisibly) ایک شیطان لگا ہوا ہے۔ وہ ہر وقت اور ہر موقع پر آدمی کے اندر اپنے منصوبے کے مطابق ، بے اعترافی کا مزاج پیدا کرتا رہتا ہے۔ شیطان کا یہ منصوبہ پوری تاریخ میں کامیاب رہا۔ یہی وجہ ہے کہ ہر عورت اور مرد کا یہ حال ہے کہ اُن کے اندر بے اعترافی کا مزاج (non-appreciating nature) پیدا ہوگیا ہے۔ ہر ایک کا یہ حال ہے کہ اگر ننانوے فی صد مثبت بات ہو اور کوئی ایک منفی بات ہو تو لوگ مثبت پہلوؤں کو چھوڑ کر ایک منفی بات کو لے لیں گے اور فوراً دوسرے کے بارے میں منفی نفسیات کا شکار ہو جائیں گے۔ یہ ہر انسان کی زندگی کا وہ پہلو ہے جہاں اُس کو سب سے زیادہ الرٹ (alert) رہنا چاہئے۔ جب بھی کسی موقع پر دوسروں کے بارے میں منفی خیال آئے تو فوراً یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یہ شیطان کا بہکاوا ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ فوراً اپنی ارادی طاقت (will-power) کو عمل میں لاتے ہوئے اِس کو مکمل طور پر اپنے دماغ سے نکال دے۔

اعتراف ایک ملکوتی مزاج ہے، اور بے اعترافی ایک شیطانی مزاج۔ اعتراف سے آدمی کے اندر تواضع (modesty) کا مزاج پیدا ہوتا ہے، اور بے اعترافی سے اِس کے برعکس غیر متواضع مزاج پیدا ہوتا ہے۔ آدمی ہر لمحہ ان دو امکانات کے درمیان ہوتا ہے۔ ایک رویہ اختیار کرنے سے وہ متواضع انسان بن جاتا ہے، جو کسی انسان کی سب سے بڑی صفت ہے۔ اور دوسرا رویہ اختیار کرنے سے وہ ایک غیر متواضع انسان بن جاتا ہے، جو کسی انسان کے لیے سب سے بری صفت ہے۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page