ردِعمل، انتہا پسندی
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
ردِعمل، انتہا پسندی
یہ ایک عام تجربہ ہے کہ جب کوئی شخص ردِعمل کی نفسیات کے تحت سوچے تو ہمیشہ اس کی سوچ انتہا پسندانہ سوچ بن جاتی ہے۔ ایسا انسان کبھی معتدل انداز میں نہیں سوچ سکتا: Thinking out of reaction, always takes the form of extremist thinking. اس معاملے کی مثالیں مذہب اور غیر مذہب دونوں دائروں میں کثرت سے پائی جاتی ہیں۔ یہ معاملہ اتنا زیادہ عام ہے کہ شاید اس میں کوئی استثناء (exception) نہیں۔
مثلاً ترکی میں جب 1923 میں عثمانی خلافت کا خاتمہ ہوا تو اُس کو ہمارے علماء اور ہمارے رہنماؤں نے الغاء خلافت کا نام دیا تھا، یعنی خلافت کے سیاسی ادارے کو ایبالش (abolish) کرنا۔ یہ ردِعمل کا کلمہ تھا۔ چناں چہ اس کے نتیجے میں مسلمانوں کے اندر خلافت کے دوبارہ قیام کے لیے متشددانہ تحریک چل پڑی۔
اس کے برعکس، اگر اس کو سقوط خلافت کا نام دیا جاتا، یعنی خلافت کا ختم ہو جانا تو ایسا نہ ہوتا۔ اسی طرح اسلام کو جب شریعت کے نفاذ کا معاملہ بتایا جاتا ہے تو وہ ردِعمل کی نفسیات کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چناں چہ اس کے نتیجے میں مسلح جہاد شروع ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر شریعت کی پیروی کا لفظ بولا جائے تو اس سے متشددانہ تحریک نہیں ابھرے گی۔
ردِعمل کی سوچ دوسروں کے رویے کو دیکھ کر جوابی طور پر ابھرتی ہے۔ اس لیے اس میں ہمیشہ منفی محرک موجود رہتا ہے، جو اس کو تشدد کی طرف لے جاتا ہے۔ اس کے برعکس، مثبت سوچ کے تحت جو ذہن بنتا ہے، وہ ہمیشہ خود احتسابی (self-introspection) کا ذہن ہوتا ہے۔ اس میں اپنی اصلاح آپ کا جذبہ ابھرتا ہے، نہ کہ دوسروں کے خلاف تشدد کا جذبہ۔ اس دنیا کا قانون یہ ہے کہ جیسی سوچ، ویسا عمل۔ سوچ اگر درست ہوگی تو عمل بھی درست ہوگا۔ اور اگر سوچ غلط ہو تو عمل بھی غلط ہو کر رہ جائے گا۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues