Al-Risala · November 2009 · page 18

شکایت کا مزاج

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸

شکایت کا مزاج

ایک شخص نے کسی کے بارے میں کچھ شکایت کی بات کی۔ میں نے کہا کہ شکایت قاتلِ روحانیت ہے۔ شکایت اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ آپ کو مطلقاً اس سے دور رہنا چاہیے۔ انھوں نے کہا کہ شکایت سے مطلقاً کیسے بچا جاسکتا ہے، کیوں کہ شکایت کے اسباب اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیں۔ میں نے کہا کہ یہی تو آپ کا امتحان ہے کہ آپ شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر اس دنیا میں رہیں، منفی تجربات کے باوجود آپ مثبت نفسیات میں جینا سیکھیں۔ یہی اس دنیا میں انسان کا امتحانی پرچہ (test-paper) ہے۔ ہر ایک کو اس امتحان سے گزرنا ہے۔ اس امتحان میں کامیاب ہونے والا ہی کامیاب ہے، اور اس امتحان میں نا کام ہونے والا ہی نا کام۔ مزید یہ کہ یہ نا کامی بھی ابدی ہے، اور یہ کامیابی بھی ابدی۔ شکایت کوئی سادہ چیز نہیں۔ شکایت کے ساتھ ناشکری جڑی ہوئی ہے۔ جس دل میں شکایت ہوگی، وہ شکر کے جذبات سے محروم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ شکایت گندگی کے مانند ہے۔ گندگی کی ایک بوند پانی کے پورے ٹب کو گندا کر دیتی ہے۔ اسی طرح شکایت کی تھوڑی مقدار بھی شکر کی نفسیات سے آدمی کو محروم کردیتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہو کہ وہ کسی بھی حال میں شکر کا ایروژن (erosion) گوارا نہ کرسکے۔ وہ شکایت کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہے، تاکہ اس کے شاکرانہ مزاج میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔

اس مہلک برائی سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آغاز ہی میں اُس کا خاتمہ کر دینا۔ تھوڑی سی شکایت کو بھی اتنا گھٹائیے، اتنا گھٹائیے کہ اس کو زیرو کے درجے تک پہنچادیجئے۔ اور شکر کی تھوڑی سی بات کو بھی اتنا بڑھائیے، اتنا بڑھائیے کہ اس کو صد فی صد تک پہنچادیجئے۔ یہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعے آپ اپنی شخصیت کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ آپ کے اندر صرف شکر ہی شکر ہو، ناشکری کا ایک ذرہ بھی آپ کی شخصیت کے اندر باقی نہ رہے۔ شکر کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جنت ہے، اور ناشکری کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جہنم۔

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page