Al-Risala · November 2009 · page 19

شکایت کا مزاج

الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۱۹

دو عظیم فکری انقلابات Two Great Intellectual Revolutions مذہبی نقطہ نظر سے انسانی تاریخ میں دو بڑے فکری انقلابات پیش آئے ہیں۔ ایک انقلاب وہ ہے جو اپنی آخری صورت میں ساتویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ اس انقلاب کے ہیرو وہ لوگ تھے جن کو اسلامی تاریخ میں "اصحابِ رسول" کہا جاتا ہے۔ دوسرا فکری انقلاب لانے والوں کو حدیث میں "اخوانِ رسول" کا نام دیا گیا ہے۔ اصحابِ رسول نے شرک (polytheism) کے فکری غلبہ کو ختم کیا تھا اور توحید (monotheism) کے بند دروازوں کو کھولا تھا۔ اخوانِ رسول کے لیے یہ مقدر ہے کہ وہ موجودہ زمانے میں الحاد کے فکری غلبہ کو ختم کر کے دوبارہ توحید کو اس کا غالب مقام عطا کریں۔ امت کے دو گروہ ایسے ہیں جن کو خصوصی تاریخی درجہ حاصل ہے ـــــ اصحابِ رسول، اور اخوانِ رسول۔ یہ دونوں پُر اسرار الفاظ نہیں ہیں اور نہ کسی پراسرار فضیلت کی بنا پر اُن کو یہ امتیازی درجہ عطا ہوا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ دونوں گروہ اسلام کی تاریخ میں دو بڑے کارنامے انجام دیں گے۔ اسی کارنامے کی بنا پر وہ بڑا درجہ پائیں گے ـــــ اصحابِ رسول کے کارنامے کا تعلق، اسلام کے دورِ اول سے ہے، اور اخوانِ رسول وہ لوگ ہیں جو اسلام کے دورِ آخر میں اپنا کارنامہ انجام دیں گے۔ اصل یہ ہے کہ تاریخ کے دو دور ہیں۔ پہلا، دورِ شرک اور دوسرا، دورِ الحاد۔ قدیم بادشاہت کے زمانے میں شرک کو ریاستی مذہب (state religion) کی حیثیت حاصل ہوگئی تھی۔ اس بنا پر قدیم زمانے میں مذہبی جبر (religious persecution) کے حالات پیدا ہوئے۔ اصحابِ رسول نے یہ کیا کہ غیر معمولی جد و جہد اور قربانی کے ذریعے شرک کا رشتہ سیاسی اقتدار سے منقطع کر دیا اور اس طرح شرک کو مکمل طور پر ایک بے زر عقیدہ بنا دیا، اصحابِ رسول کا یہی وہ غیر معمولی عمل تھا جس کی بنا پر دنیا میں مذہبی آزادی (religious freedom) کا دور آیا اور شرک محض ایک بے زور شخصی عقیدہ بن کر رہ گیا۔ بعد کے زمانے میں ایک نیا فتنہ پیدا ہوا جس کو سائنسی الحاد کہا جاسکتا ہے۔ الحاد (atheism)

‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues

Printed page