بحران کا مثبت پہلو
الرسالہ، نومبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۷
بحران کا مثبت پہلو
سگمنڈ فرائڈ (Sigmund Freud) 1856 میں آسٹرا یا (سنٹرل یورپ) میں پیدا ہوا، اور 1939 میں اس کی وفات ہوئی ۔ وہ نفسیات کا عالم (psychologist) تھا۔
سگمنڈ فرائڈ اپنے ایک غلط نظریے کی وجہ سے کافی بدنام ہوا۔ اُس کا نظریہ یہ تھا کہ ـــ نفسیاتی پیچیدگیاں ابتدائی دور کے جذباتی صدمات کا نتیجہ ہوتی ہیں، وہ دبی ہوئی صنفی توانائی کا اظہار ہیں: ...... Symptoms were caused by early trauma, and were expressions of repressed sexual energy. تاہم فرائڈ کی بعض تحقیقات سبق آموز ہیں۔ اُن میں سے ایک اُس کا یہ قول ہے کہ ــــ زندگی کا ہر بحران امکانی طور پر انسانی شخصیت کے مثبت پہلو کو متحرک کرنے کا سبب بنتا ہے: Every crisis is potentially a stimulus to the positive side of the personality. یہ فطرت کے نظام کا ایک اہم پہلو ہے۔ خدا کے تخلیقی نظام کے تحت، ایسا ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی میں جب کوئی غیر مطلوب واقعہ پیش آتا ہے تو وہ ایک مطلوب نتیجے کا سبب بن جاتا ہے۔ اس کے بعد آدمی کے اندر نیا شوق، نیا ولولہ اور نیا جذبہ عمل پیدا ہوتا ہے۔ آدمی کا ذہن زیادہ بیدار ہو کر زیادہ بہتر منصوبہ بندی کرنے لگتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہر بحران آدمی کی زندگی میں ایک نیا امکان کھول دیتا ہے، ہر ناکامی آدمی کے لیے ایک نئی کامیابی کا سبب بن جاتی ہے۔ آدمی کو چاہیے کہ وہ کسی بھی صورت حال میں مایوس نہ ہو، وہ ہر رکاوٹ کو اپنے لیے ترقی کا نیا زینہ سمجھے، وہ مسئلہ (problem) کو ایک چینج سمجھے، نہ کہ صرف ایک مسئلہ۔ مسئلے کو صرف مسئلہ سمجھنا آدمی کو مایوسی کی طرف لے جاتا ہے، اور مسئلے کو چینج سمجھنا آدمی کے لیے نیا دروازہ کھولنے کا سبب بنتا ہے۔
‹ Previous page Next page › Contents of November 2009 All issues