Change has come to America.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۳
قبرص (Cyprus) ایک جزیرہ ہے۔ اُس کا رقبہ 9,251 مربع کلومیٹر ہے۔ وہ بحر متوسط (Mediterranean Sea) کے درمیان اس کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اس کی اہمیت یہ ہے کہ وہ تین براعظموں کے قریب ہے— ایشیا، افریقہ، یورپ۔ قبل مسیح زمانے میں اس پر یونانیوں کی حکومت تھی، پھر یہاں رومیوں کی حکومت قائم ہوئی۔ اس کے بعد یہاں ترکوں کی حکومت آئی۔ اس کے بعد یہ جزیرہ برطانیہ کے زیرِ اقتدار آیا۔ اب قبرص کے دو حصے ہیں۔ اس کے 60 فی صد حصے پر مسیحیوں کی حکومت ہے، اور تقریباً 40 فی صد حصے پر ترکوں کی حکومت۔ یہاں کی زبان یونانی اور ترکی ہے۔ لیکن انگریزی زبان بھی عام طور پر بولی اور سمجھی جاتی ہے۔
برٹش انسائیکلو پیڈیا میں قبرص کے بارے میں جو تفصیل ہے، اس کا ایک جُز یہ ہے کہ— سکندرِ اعظم نے جب 333 قبل مسیح میں قبرص پر قبضہ کیا تو یہاں کے باشندوں نے عام طور پر اس کا استقبال کیا: After the victory of Alexander the Great at Issus in 333, all the states of Cyprus welcomed the conqueror (EB 5/406)
یہ الفاظ دنیا کی سیاسی تاریخ کے ایک خاص پہلو کو بتاتے ہیں۔ مختلف حکم رانوں کے بارے میں کتابوں میں یہ بتایا جاتا ہے کہ جب وہ کسی ملک میں بطورِ فاتح داخل ہوئے تو مفتوح قوم نے خوشی کے ساتھ اُن کا استقبال کیا۔ اس قسم کے بیانات مسلم تاریخ میں بھی مسلم فاتحین کے بارے میں بار بار ملتے ہیں۔ اس کا مطلب لازمی طور پر یہ نہیں ہے کہ قدیم حکم رانوں کے مقابلے میں نئے حکم راں زیادہ بہتر تھے۔ اس کا تعلق انسان کے اُس عام مزاج سے ہے جس کو تبدیلی (change) کہا جاتا ہے۔ موجودہ امریکی صدر براک اوباما جب نومبر 2008 میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے تو انھوں نے شکاگو میں اپنی پہلی پبلک تقریر ان الفاظ سے شروع کی:
Change has come to America.
ان الفاظ کو سن کر حاضرین نے خوشی سے تالیاں بجائیں۔ یہ تالیاں پروڈاباما سے زیادہ، اینٹی بش جذبات کا اظہار تھیں ۔ اِسی کو جدید اصطلاح میں اینٹی اِنکمبنسنسی فیکٹر (anti incumbency factor) کہا جاتا ہے۔ اصل یہ ہے کہ لوگ ہمیشہ اپنے حکم رانوں کے بارے میں بڑھی ہوئی توقعات
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues