حلال اور حرام کا تصور
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰
تک قربانی کی شکل کا تعلق ہے، یعنی جانور کا ذبیحہ، اس پر کچھ لوگ شک و شبہہ کا اظہار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جانور کو ذبح کرنا تو ایک بے رحمی کی بات ہے، پھر ایسے ایک بے رحمی کے عمل کو ایک مقدس عبادت میں کیوں شامل کیا جاتا ہے۔
اس معاملہ پر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ یہ کوئی حقیقی اعتراض نہیں۔ یہ صرف ایک بے اصل بات ہے جو توہمانہ کنڈیشننگ (superstitious conditioning) کے نتیجہ میں پیدا ہوئی ہے، اس کے پیچھے کوئی علمی بنیاد نہیں۔
حلال اور حرام کا تصور
کھانے پینے کے معاملے میں کچھ چیزیں انسان کے لیے حلال ہیں اور کچھ چیزیں حرام ہیں۔ حلال اور حرام کا یہ فرق کس بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ ایک طبقہ کا یہ کہنا ہے کہ اصل حرام فعل یہ ہے کہ کسی زندگی کو ہلاک کیا جائے۔ اس معاملہ میں ان کا فارمولا یہ ہے۔ ایک حساس زندگی کو مارنا حرام ہے، اور حساس زندگی کو نہ مارنا سب سے بڑی نیکی ہے:
Killing of a sensation is sin and vice versa.
یہ نظریہ بلاشبہہ ایک بے بنیاد نظریہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ موجودہ دنیا میں یہ سرے سے قابل عمل ہی نہیں، جیسا کہ اس مضمون میں دوسرے مقام پر واضح کیا جائے گا۔ زندگی کو مارنا ہمارا اختیار (option) نہیں۔ انسان جب تک زندہ ہے، وہ شعوری یا غیر شعوری طور پر بے شمار زندگیوں کو ہلاک کرتا رہتا ہے۔ جو آدمی اس ’’گناہ‘‘ سے بچنا چاہے، اس کے لیے دو چیزوں میں سے ایک کا اختیار (option) ہے، یا تو وہ خودکشی کرکے اپنے آپ کو ختم کرلے، یا وہ ایک اور دنیا کی تخلیق کرے جس کے قوانین اس سے مختلف ہوں جو موجودہ دنیا کے قوانین ہیں۔
اسلام میں غذاؤں میں حلال اور حرام کا اصول بنیادی طور پر یہ ہے کہ چند مخصوص چیزوں کو اسلام میں حرام قرار دیا گیا ہے۔ ان کے علاوہ بقیہ تمام چیزیں اسلام میں جائز خوراک کی حیثیت رکھتی ہیں۔ حرام اور حلال کا یہ اصول جو اسلام نے بتایا ہے، وہ فطرت کے قوانین پر مبنی ہے۔ چناں چہ
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues