Al-Risala · December 2009 · page 21

انسان کی غذائی ضرورت

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۲۱

آج بھی ایک محدود گروہ کو چھوڑ کر ساری دنیا حلال و حرام کے اسی اصول کا اتباع کررہی ہے۔ یہ محدود گروہ بھی صرف کہنے کے لیے اپنا نظریہ بتاتا ہے، ورنہ جہاں تک عمل کا تعلق ہے، وہ بھی بالفعل اسی فطری اصول پر قائم ہے۔ مثلاً یہ تمام لوگ عام طور پر دودھ اور دہی وغیرہ استعمال کرتے ہیں۔ پہلے یہ لوگ اس غلط فہمی میں مبتلا تھے کہ دودھ اور دہی وغیرہ غیر حیوانی غذائیں ہیں۔ مگر اب قطعیّت کے ساتھ یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ سب بھی پورے معنی میں حیوانی غذائیں ہیں۔ جس آدمی کو اس بات پر شک ہو، وہ کسی بھی قریبی تجربہ گاہ (laboratory) میں جا کر خورد بین (microscope) میں دودھ اور دہی کا مشاہدہ کرے ۔ ایک ہی نظر میں وہ جان لے گا کہ اس معاملہ میں حقیقت کیا ہے۔

اسلام میں حلال جانور اور حرام جانور کی جو تفریق کی گئی ہے، وہ بنیادی طور پر اس اصول پر مبنی ہے کہ لحمی غذا کھانے والے جانور حرام ہیں اور غیر لحمی غذا کھانے والے جانور حلال ہیں۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جو جانور براہ راست حیوانات کو کھا کر اپنی خوراک بناتے ہیں، ان کا گوشت انسان کے لیے باعتبار صحت موزوں نہیں ہوتا۔ دوسرے جانوروں کا معاملہ یہ ہے کہ ان کے اندر مخصوص فطری نظام ہوتا ہے جس کے مطابق، ایسا ہوتا ہے کہ جو زرعی غذا وہ کھاتے ہیں اس کو وہ مخصوص عمل کے ذریعہ پروٹین میں تبدیل کرتے ہیں، چناں چہ وہ ہمارے لیے صحت بخش اور زود ہضم بن جاتا ہے۔

انسان کی غذائی ضرورت

غذا انسان کی لازمی ضرورت ہے۔ قدیم زمانہ میں غذا کا مطلب صرف دو ہوا کرتا تھا— ذائقہ لینا اور بھوک مٹانا۔ لیکن موجودہ زمانہ میں یہ دونوں چیزیں اضافی بن چکی ہیں۔ موجودہ زمانہ میں سائنسی تحقیقات کے بعد یہ معلوم ہوا کہ خوراک کا مقصد ہے کہ جسم کو ایسی غذا فراہم کرنا جس کو موجودہ زمانہ میں متوازن غذا (balanced diet) کہا جاتا ہے جس میں بنیادی طور پر چھ اجزا شامل ہیں: A balanced diet is one which contains carbohydrate, protein, fat, vitamins, mineral salts and fibre in the correct proportions. ان اجزاء میں سے پروٹین (protein) کی اہمیت بہت زیادہ ہے کیوں کہ پروٹین کا ہمارے

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page