In comparision that we understand.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۶
نظر آتی ہیں۔ ایک عام آدمی اس کو ترقی کی علامت بتائے گا۔ میں نے جب سڑکوں پر دوڑتی ہوئی کاروں کا ہجوم دیکھا تو مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے قیامت قریب آگئی ہے، اور خدا نے فرشتوں کو حکم دے دیا ہے کہ لوگوں کو تیزی سے میدانِ حشر کی طرف لے آؤ۔
حقیقت یہ ہے کہ جس آدمی کو سچائی کی دریافت ہو گئی ہو، اس کو قیامت اتنی قریب آئے گی کہ وہ آندھی اور طوفان کو دیکھے گا تو سمجھے گا کہ آنے والی قیامت شاید آگئی۔ وہ سڑکوں پر لوگوں کی دوڑ کو دیکھے گا تو سمجھے گا کہ شاید تمام لوگ فائنل کال کی طرف تیزی سے چلے جا رہے ہیں۔ حساس آدمی قیامت کو بالکل قریب دیکھنے لگتا ہے اور جو آدمی بے حس ہو، وہ اس طرح رہے گا جیسے قیامت یا تو آئے گی نہیں، یا اس کے آنے میں ابھی بہت زیادہ دیر ہے۔ عجیب بات ہے کہ آج مسلمانوں کی نفسیات یہی ہے۔ مشہور مثل ہے کہ ـــ چیزیں تقابل کے ذریعے سمجھ میں آتی ہیں۔ عربی میں کہا جاتا ہے: تعرف الأشیاء بأضدادھا۔ یہی مثل انگریزی زبان میں اس طرح ہے:
In comparision that we understand.
ہمارا سفر شروع ہوا تو مجھے یہ مثل یاد آئی۔ میں نے اپنے سفر کا تقابل حیوانات کے سفر سے کیا۔ حیوانات بھی محدود طور پر سفر کرتے ہیں، لیکن ان کا سفر خود اپنے پیروں کے ذریعے ہوتا ہے۔ اس کے برعکس، انسان کو یہ شرف حاصل ہے کہ اس کا سفر سواریوں کے ذریعے طے ہوتا ہے، خشکی میں بھی اور سمندر میں بھی اور فضا میں بھی۔ انسان کے ساتھ خدا کا یہی خاص معاملہ ہے جس کو قرآن میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: ولقد کرّمنا بنی آدم، وحملناهم في البر والبحر (الإسراء: 70) اس آیت کے اندر صرف برو بحر کے سفر کا ذکر ہے۔ لیکن توسعی معنی میں اس کے اندر فضائی سفر بھی شامل ہے۔ میں اپنے مزاج کے مطابق، ایک تنہائی پسند آدمی ہوں۔ ایک بیرونی سفر میں ایک عرب شیخ سے بات کرتے ہوئے میں نے کہا کہ: أنا رجل أحبّ العُزلة۔ اپنے اس مزاج کی بنا پر میں ہمیشہ اپنی تنہائی کی دنیا میں جیتا ہوں ۔ اس بنا پر ایسا ہوتا ہے کہ جب بھی مجھے کوئی سفر پیش آتا ہے تو اپنے اس مزاج کی بنا پر مجھ کو ہمیشہ سفر کے لیے نکلتے ہوئے ایک قسم کی ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ یہی موجودہ سفر
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues