Al-Risala · February 2009 · page 7

That area is no-angel zone.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۷

میں بھی پیش آیا۔ مگر جب میں ائر پورٹ پر پہنچاتو سارا معاملہ بالکل بدل چکا تھا۔ ائر پورٹ میں داخل ہوتے ہی آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ ایک عالمی قافلے کے پر ہجوم سفر میں شریک ہو گئے ہیں۔ آپ ایک بھیڑ کے درمیان معلوم یا نا معلوم منزل کی طرف چلے جارہے ہیں۔

ہم لوگ ائر پورٹ کے اندر داخل ہوئے تو وہاں ائر پورٹ کا وہ حصہ دکھائی دیا جہاں روشن لفظوں میں ڈیوٹی فری شاپ (Duty Free Shop) لکھا ہوا تھا۔ عربی میں اس کو "السوق الحرّة" کہا جاتا ہے۔ یہ ائر پورٹ کا شاپنگ سنٹر تھا۔ خوب صورت الماریوں میں آئٹم برائے فروخت رکھے ہوئے تھے۔ میرے ساتھی مسٹر رِجت ملہوترا نے اس کو دیکھ کر کہا:

That area is no-angel zone.

اِس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے مشن میں جو لوگ تیار ہورہے ہیں، ان کا ذوق کیا ہے۔ چیزوں کو دیکھنے کے معاملے میں ان کا زاویۂ نظر بالکل بدل گیا ہے۔ عام لوگ چیزوں کو مادی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ اِس کے برعکس، ہمارے مشن سے وابستہ افراد چیزوں کو روحانی نقطۂ نظر سے دیکھتے ہیں۔ وہ ہر چیز سے روحانی سبق حاصل کرتے ہیں۔

نئی دہلی کے اندرا گاندھی انٹرنیشنل ائر پورٹ پر ہم لوگ انتظار گاہ (lounge) میں بیٹھے ہوئے تھے۔ میرے دونوں ساتھی لوگوں کو دعوتی لٹریچر دے رہے تھے۔ میرے ایک ساتھی نے ایک تعلیم یافتہ خاتون کو انگریزی میں چھپا ہوا دعوتی لٹریچر دیا۔ یہ خاتون شمالی امریکا کے ملک پیرو (Peru) کی رہنے والی تھیں۔ انھوں نے نہایت خوشی سے اس کو لیا۔ لینے کے بعد انھوں نے اپنے بیگ کے اندر سے ایک چھوٹا پرس نکالا۔ یہ پرس انڈین سکّوں سے بھرا ہوا تھا۔ مذکورہ خاتون نے میرے ساتھی کی طرف یہ سکّے بڑھاتے ہوئے کہا: لٹریچر کی کتنی قیمت دینا ہے (How much?)۔ میرے ساتھی نے کہا۔ یہ آپ کے لیے فری اسپرچول گفٹ ہے:

This is a free spiritual gift for you.

دہلی سے قبرص کے لیے ہمارا یہ سفر ایمِرلْس (Emirates) کی فلائٹ (515 EK) کے

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page