Daily piyo, healthy jiyo
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۳۰
6- اٹھیں فکری مغالطوں میں سے ایک مغالطہ وہ ہے جو ویجیٹیریان ازم (vegetarianism) کے نام سے معروف ہے۔ یہاں اس معاملے کی مختصر وضاحت کی جاتی ہے۔
لوہا اور پتھر جیسی چیزیں غیر ذی روح مادہ (dead matter) کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ان کے وجود کے لیے زندہ اجسام کی ضرورت نہیں۔ مگر انسان کی حیثیت ایک زندہ وجود کی ہے۔ زندگی کی بقا کے لیے زندگی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اپنے وجود کو باقی رکھنے کے لیے اسے ہر لمحہ زندگی بخش غذاؤں کی ضرورت ہے۔ یہ غذا انسان کو سبزی اور پھل اور اناج وغیرہ کی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔ ان غذائی اجزا کو کھا کر پیٹ میں ڈالنا ہی کافی نہیں۔ اس کے بعد ایک اور عمل درکار ہے جس کو عمل ہضم کہا جاتا ہے۔ یہ عمل ایک پیچیدہ نظام ہضم (digestive system) کے تحت انجام پاتا ہے۔ اس کے بعد ہی یہ غذائی اجزا جسم کا جزء بنتے ہیں۔ اس ہضمیاتی عمل (digestive process) میں اصل حصہ زندہ بیکٹیریا کا ہوتا ہے۔ بیکٹیریا اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ آنکھوں سے دکھائی نہیں دیتے۔ لیکن وہ مکمل معنوں میں ایک زندہ وجود ہیں۔ یہ بیکٹیریا یا بے شمار تعداد میں انسان کے جسم میں داخل ہو کر ہضمیاتی عمل کی تکمیل کرتے ہیں۔ اگر بیکٹیریا کی مدد نہ ملے تو کوئی بھی غذا انسان کے لیے صحت بخش غذا نہ بن سکے۔
اس معاملے کو سمجھنے کے لیے ایک مثال لیجیے۔ نئی دہلی کے انگریزی اخبار ٹائمز آف انڈیا (26 دسمبر 2007) کے صفحہ اول پر ایک نمایاں اور رنگین اشتہار چھپا ہے۔ اس کا عنوان جلی الفاظ میں یہ ہے— ڈیلی پیو، ہیلدی جیو:
Daily piyo, healthy jiyo
یہ ایک انٹرنیشنل مشروب کا اشتہار ہے جس کو صحت بخش مشروب (pro-biotic drink) بتایا گیا ہے اور اس کا نام یا کلٹ (Yakult) ہے۔ یہ 1935 میں بنایا گیا اور 30 ملکوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ اب انڈیا میں بھی اس کا استعمال شروع کیا گیا ہے۔
اس اشتہار میں اس کی سائنٹفک تشریح کرتے ہوئے یہ بتایا گیا ہے کہ اس میں مفید بیکٹیریا یا
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues