This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۸
ذریعے ہوا۔ ایمیٹس ائرلائن نہایت معیاری ائرلائن ہے۔ اس کا کرایہ دوسرے جہازوں سے کافی زیادہ ہوتا ہے۔ ایمیٹس ائرلائن 1985 میں شروع ہوئی۔ اس کی اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر اس کو 300 انٹرنیشنل ایوارڈ مل چکے ہیں۔ دبئی سے اس کی پروازیں دنیا کے تقریباً 100 مقامات پر جاتی ہیں۔ اب دبئی میں صرف ایمیٹس ائرلائنز کے لیے ایک مستقل ائرپورٹ بنایا جا رہا ہے۔
ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوئے تو اس کے اندر تمام انتظامات شاہانہ معیار کے نظر آئے۔ سفر کے دوران تمام سہولتیں اعلیٰ سطح پر موجود تھیں۔ دہلی سے دبئی کا سفر تقریباً 4 گھنٹے کا تھا۔ یہ پورا سفر جس طرح طے ہوا، وہ حدیث کے الفاظ میں ”کالملوك علی الأسرة“ کا تجربہ کرارہا تھا۔ تاہم ایک مسئلہ میرے لیے پریشانی کا باعث تھا۔ دبئی سے ہم کو لارناکا (Larnaca) کے لیے اگلی پرواز لینا تھا۔ دبئی میں یہ وقفہ 8 گھنٹے کا تھا۔ اپنے مزاج کے مطابق، میں فکرمند تھا کہ اتنا لمبا وقت ائرپورٹ پر کیسے گزرے گا۔ لیکن ائرپورٹ پر پہنچتے ہی بالکل نیا منظر سامنے آیا۔ ائرپورٹ پر میرے لیے سینسرٹی زن ہونے کی بنا پر ویل چیر موجود تھی۔ ائرپورٹ کا کارکن تیزی سے چلاتے ہوئے ہم کو ائرپورٹ کے لاؤنج (lounge) میں لے گیا۔ ریسپشن پر حسب قاعدہ ہماری انٹری کی گئی۔ اس کے بعد ہم تینوں لوگ لاؤنج میں داخل ہوئے۔ اگلی فلائٹ کے وقفہ انتظار کے لیے بنایا گیا یہ لاؤنج نہایت کشادہ تھا۔ وہ بالکل جدید طرز پر بنایا گیا تھا۔ اُس میں بیٹھنے اور لیٹنے کی تمام سہولتیں موجود تھیں ۔ اسی کے ساتھ اس کے اندر کھانے اور پینے کے اعلیٰ انتظامات تھے۔ مختلف قسم کے مشروبات اور ہر ذوق کے کھانے وہاں افراط کے ساتھ رکھے گئے تھے۔ ہم لوگوں نے یہاں بڑھے ہوئے جذبات شکر کے ساتھ نماز پڑھی۔
یہ لاؤنج (lounge) لمبائی کی صورت میں تھا۔ اس کے دونوں طرف کی دیواروں میں نہایت شفاف قسم کے بڑے بڑے شیشے لگے ہوئے تھے۔ یہ شیشے ساؤنڈ پروف تھے۔ باہر ہوائی جہاز مسلسل پرواز کر رہے تھے اور اتر رہے تھے، لیکن ان کا شور ہم لوگوں تک نہیں پہنچتا تھا۔ ہم باہر کے مناظر بخوبی طور پر دیکھتے تھے، لیکن باہر کے شور سے ہم پوری طرح محفوظ تھے۔ یہ ایک وسیع اور صاف ستھری دنیا تھی۔ اس کے اندر کھانے پینے سے لے کر ضرورت کی تمام چیزیں اپنی اعلیٰ صورت میں موجود تھیں۔ ہم جہاں چاہیں،
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues