خاتمہ
الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۱
نماز ادا کریں ۔ یہ فتویٰ بالکل بے بنیاد ہے ، اس فتوے کی کوئی شرعی اہمیت نہیں ۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یروشلم کا سفر کیا اور وہاں نماز ادا کی ، اُس وقت یہ جگہ رومیوں کے قبضے میں تھی۔ اگر رومیوں کے قبضہ کے باوجود مسجد اقصیٰ کے مقام پر نماز پڑھنا جائز تھا تو یہود کے ’’ قبضہ‘‘ کے وقت وہاں نماز ادا کرنا کیوں نا جائز ہو جائے گا ۔ اس قسم کے فتوے بلا شبہ سیاسی فتوے ہیں ، نہ کہ شرعی فتوے ۔
موجودہ زمانے کے مسلمانوں میں یہ افواہ پھیلی ہوئی ہے کہ اسرائیلی فوجی مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ کے اندر جانے نہیں دیتے ، وہ مسلمانوں کو اس عظیم سعادت سے محروم کئے ہوئے ہیں کہ وہ مسجد اقصیٰ میں جا کر نماز ادا کریں ۔ یہ بلا شبہ ایک خلاف واقعہ بات ہے۔ مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کے لیے نماز ادا کرنے پر اسرائیل کی طرف سے کوئی پابندی نہیں۔ اگر پابندی ہے تو وہ سیاسی مظاہرہ کرنے پر ہے، نہ کہ وہاں نماز ادا کرنے پر ۔ جو لوگ اس قسم کی بے بنیاد باتیں کہیں ، اُنھیں سوچنا چاہیے کہ کہیں وہ خدا کے یہاں مقعدِ صدق ( القمر : 55) پر جگہ پانے سے محروم نہ ہو جائیں ، اور بلاشبہ اس سے بڑی کوئی محرومی نہیں ۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ آخرت کی دنیا میں صداقت کے مقام پر کھڑے ہونے کی سعادت صرف انھیں لوگوں کو ملے گی جنھوں نے اس دنیا کی زندگی میں صداقت پر کھڑے ہونے کا ثبوت دیا ہو۔ سوال الرسالہ نے میری زندگی بالکل بدل دی ہے ۔ میں نے الرسالہ کے مختلف مضامین کا کئی بار مطالعہ کیا۔ الرسالہ کے ذریعے مجھے زندگی کا ایک راستہ ملا ، اور یہ راستہ ان شاء اللہ جنت الفردوس تک جا کر ختم ہو گا ۔ آپ کے مضامین میں ایک لفظ نے مجھے برابر سوچنے پر مجبور کیا ہے ، وہ لفظ ہے ـــ اعراض ۔ آپ اس لفظ کا استعمال الرسالہ میں اکثر کرتے ہیں ۔ کیا اعراض پر آپ کی کوئی مکمل کتاب بھی ہے ۔ اگر ہاں ، تو نام ضرور بتائیں ( فاروق عبد اللہ ، چمپارن ، بہار )
جواب
اعراض (avoidance) کی اہمیت کو سمجھنے میں اکثر لوگوں کو دقت پیش آتی ہے۔ اس کا سبب
‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues