Al-Risala · December 2009 · page 42

خاتمہ

الرسالہ، دسمبر ۲۰۰۹، صفحہ ۴۲

یہ ہے کہ وہ اپنے غلط تصور کی بنا پر اعراض کو پسپائی کا ایک فعل سمجھتے ہیں، حالاں کہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے، اعراض ایک عبادت ہے۔ اعراض کرتے ہوئے اگر آدمی کو یہ احساس ہو کہ وہ عبادت کا ایک فعل کر رہا ہے تو وہ اعراض کی پالیسی کو اطمینانِ قلب کے ساتھ قبول کرے گا۔ وہ کبھی اُس کے بارے میں کنفیوزن (confusion) کا شکار نہ ہوگا۔

اعراض کیا ہے۔ اعراض خدا کے فیصلے پر راضی ہونے کا دوسرا نام ہے۔ خدا نے دنیا کا نظام اس طرح بنایا ہے کہ یہاں ہر ایک کو کامل آزادی حاصل ہے۔ کیوں کہ اس دنیا میں انسان ٹسٹ (امتحان) کے لیے رکھا گیا ہے، اور آزادی کے بغیر کسی کا ٹسٹ نہیں لیا جا سکتا۔ اسی آزادی کی بنا پر وہ مسائل پیدا ہوئے ہیں جن میں اعراض کا حکم دیا گیا ہے۔ کوئی اپنی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے، کوئی شخص اپنی بے جاروش سے ایسے اسباب پیدا کرتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ بھڑک اٹھیں، کوئی شخص نفرت اور تشدد کی بولی بول کر دوسروں کو بھی نفرت اور تشدد میں مبتلا کر دیتا ہے۔ یہی وہ مواقع ہیں جہاں اعراض کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ اعراض دراصل یہ ہے کہ نا خوش گوار حالات میں اپنے آپ کو رد عمل کی نفسیات سے بچایا جائے، ناخوش گواریوں کے باوجود اپنے آپ کو اعتدال کی حالت پر قائم رکھا جائے۔

اعراض کی یہ روش اس لیے ضروری ہے کہ اپنے آپ کو منفی راہوں میں بھٹک جانے سے بچایا جائے، اور اپنے آپ کو ہر حال میں مثبت عمل پر قائم رکھا جائے۔

اعراض کا طریقہ اختیار کرنے میں مشکل پیش آنے کی وجہ یہ ہے کہ کسی آدمی کے سامنے جب اس طرح کی صورتِ حال آتی ہے تو وہ اس کو خدا کے تخلیقی پلان (creation plan of God) سے جوڑ کر دیکھ نہیں پاتا۔ وہ پیدا شدہ مسئلے کو صرف ایک انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھتا ہے، اس بنا پر وہ اُس انسان کے خلاف منفی ذہن کا شکار ہو جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر آدمی یہ سوچے کہ یہ مسئلہ خدا کی دی ہوئی آزادی کی بنا پر پیش آیا ہے تو فوراً اس کا ذہن معتدل ہو جائے گا۔ جس مسئلے کو وہ پہلے ایک انسان کا پیدا کردہ مسئلہ سمجھ رہا تھا، اس کو معلوم ہوگا کہ وہ خود خدا کے تخلیقی پلان کے مطابق پیش آنے والا ایک مسئلہ ہے، وہ سادہ طور پر صرف کسی انسان کا پیدا کردہ مسئلہ نہیں۔

‹ Previous page Next page › Contents of December 2009 All issues

Printed page