This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۹
بیٹھیں اور جہاں چاہیں لیں، اور اپنی پسند کے مطابق جو چاہیں کھائیں یا پئیں۔ مزید یہ کہ ٹیلی فون کے ذریعے ہم کسی بھی مقام پر کسی بھی شخص سے فوری طور پر رابطہ قائم کر سکتے تھے۔ یہ ایک عجیب تجربہ تھا۔ اس تجربہ کے دوران قرآن کی دو آیتیں یاد آئیں : وإذا رأيت ثمّ رأيت نعيماً وملکاً كبيراً (الدهر : 20) یعنی تم جہاں دیکھو گے، وہیں عظیم نعمت اور عظیم بادشاہی دیکھو گے۔ اور: نتبوّأ من الجنة حيث نشاء (الزّمر : 74) یعنی ہم جہاں چاہیں، جنت میں مقام کریں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ موجود دنیا جنت کا ابتدائی تعارف ہے (البقرۃ : 25)۔ چناں چہ یہ جگہ اپنی مذکورہ خصوصیات کی بنا پر ہمارے لیے جنت کا ایک ابتدائی تعارف بن گئی۔ ہم سب کے دل سے یہ دعا نکلی کہ خدایا، ہمیں اس آیت کا مصداق بنا دے : ویدخلهم الجنّة عرفها لهم (محمد: 6) یعنی خدا اُن کو جنت میں داخل کرے گا جس کی اُنھیں پہچان کرا دی ہے۔
جنت مومن کے لیے ایک معلوم چیز ہے۔ مومن اپنی بڑھی ہوئی معرفت کے ذریعے جنت کا تصوراتی ادراک کر لیتا ہے۔ وہ فطرت کے حسین مناظر میں جنت کی ابتدائی جھلکیاں دیکھ لیتا ہے۔ غیب میں چھپی ہوئی جنت کا یہی گہرا ادراک ہے جو آدمی کو یہ حوصلہ دیتا ہے کہ وہ قربانی کی قیمت پر اُس کا طالب بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو کوئی شخص آج کی دنیا کو قربان کر کے کل کی جنت کا طالب نہ بنے۔ دبئی کا یہ ائر پورٹ کئی منزلہ عمارت پر مشتمل ہے۔ اؔس کی مختلف منزلوں پر مسافروں کے لیے الگ الگ تین مسجدیں بنی ہوئی ہیں۔ ایک عورتوں کے لیے اور دو مردوں کے لیے۔ ہر مسجد ایک کشادہ کمرے پر مشتمل تھی۔ اس کے باہر کے ایک حصے میں وضو کا انتظام تھا۔ یہاں گیٹ پر یہ الفاظ لکھے ہوئے تھے— المصلی (Prayer Room)۔ ہمارے ساتھیوں نے ان مسجدوں میں قرآن کے انگریزی ترجمے کا ایک ایک نسخہ مسافروں کے مطالعے کے لیے رکھ دیا— دبئی ائر پورٹ پر ہمارا قیام بظاہر برائے استراحت تھا، لیکن عملاً وہ ہمارے لیے دعوت کا ایک نیا میدان بن گیا۔ میرے ساتھیوں نے لوگوں سے ملاقاتیں کیں اور اُنھیں اسلامی لٹریچر پڑھنے کے لیے دیا۔
ائر پورٹ پر اور بھی کئی قسم کے تجربات ہوئے۔ مثلاً ائر پورٹ کے ایک نوجوان کارکن سے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues