Al-Risala · February 2009 · page 12

This is a free spiritual gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۲

لے کر آیا۔ وہ مجھ کو وہیل چیئر پر بٹھا کر روانہ ہوا۔ میرے دونوں ساتھی میرے ہم راہ تھے۔ ہم لوگ گیٹ پر پہنچے تو وہاں مسافروں کی بھیڑ انتظار میں کھڑی ہوئی تھی۔ ایئرپورٹ کا کارکن excuse me, excuse me کہتے ہوئے آگے بڑھتا رہا۔ اس طرح اس نے تیزی سے اس بھیڑ کو پار کیا اور سب سے پہلے اس نے ہم لوگوں کو جہاز کے اندر پہنچا دیا۔ ہم لوگ جہاز کے اندر داخل ہوکر جب اپنی سیٹوں پر بیٹھ گئے، اس کے کچھ دیر بعد دوسرے مسافر جہاز کے اندر داخل ہوئے۔

یہ جہاز بظاہر ایک نیا جہاز تھا۔ اس کی ہر چیز نمایاں طور پر شان دار نظر آئی، اس کی سیٹیں بالکل شاہی تخت کے انداز میں بنائی گئی تھیں۔ اندر داخل ہونے کے بعد اعلیٰ قسم کے مشروبات اور ماکولات سے تواضع شروع ہوگئی۔ مجھے ذاتی طور پر ان چیزوں سے کوئی رغبت نہیں ہوتی۔ اپنے مزاج کے اعتبار سے مجھے تکلفات کے مقابلے میں سادگی زیادہ پسند ہے، لیکن اس قسم کے مواقع میرے لیے ہمیشہ جنت کا بعید تعارف بن جاتے ہیں۔ میں اس قسم کی پر راحت چیزوں کا استقبال اکثر دعاؤں اور آنسوؤں کے ساتھ کرتا ہوں، نہ کہ خوشیوں اور قہقہوں کے ساتھ۔

جہاز کے اندر ایک مسلمان سے ملاقات ہوئی۔ انھوں نے بتایا کہ وہ دمّام (سعودی عرب) میں ایک جاب کے تحت دس سال سے رہتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ جب میں اپنے گھر میں رہتا ہوں تو خوش رہتا ہوں، لیکن دمّام پہنچتے ہی میں ذہنی الجھن میں مبتلا ہو جاتا ہوں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ تمھارے اوپر کسی نے عمل کر دیا ہے۔ میں نے جھاڑ پھونک کروائی، مگر اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوا۔ مزید پوچھنے پر انھوں نے بتایا کہ بیوی بچوں کے ساتھ میرا کوئی مسئلہ نہیں ہے، سب میری مرضی کے مطابق ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کی یہ کیفیت صرف فرضی وہم کی بنا پر ہے۔ ایسا اکثر اُن لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے جن کو کسی وجہ سے اپنے گھر والوں سے دور رہنا پڑے۔ یہ ایک نفسیاتی حالت ہے جس کو انگریزی میں ہوم سک (homesick) کہتے ہیں۔ عربی میں اس کو ’علیل الشوق للوطن‘ کہا جاتا ہے، یعنی دوری کی بنا پر گھر کے فراق میں مبتلا۔ میں نے کہا کہ آپ کو صرف یہ کرنا ہے کہ شعوری طور پر اس حقیقت کو جان لیں۔ اس کیفیت کو صرف ایک فرضی وہم سمجھ کر اس کو اپنے ذہن سے نکال دیں۔ یہ کام آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page