Al-Risala · February 2009 · page 13

This is a free spiritual gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۳

ابھی اور اسی وقت کرنا ہے۔ اگر آپ یہ کام ابھی اور اسی وقت نہ کریں تو پھر آپ اُس کو کبھی نہیں کر پائیں گے۔ اسی طرح کے معاملات کے لیے انگریزی زبان میں یہ مثل ہے کہ ــــــ ابھی، یا پھر کبھی نہیں: Now, or never دبئی سے ہوائی جہاز روانہ ہوا تو جہاز کے اندر مسلسل یہ دکھایا جارہا تھا کہ جہاز کن ممالک کے اوپر سے گزر رہا ہے۔ مثلاً سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک، وغیرہ۔ یہ دورِ جدید کا ایک انوکھا تجربہ ہے جو ہوائی جہاز کے مسافروں کو پیش آتا ہے۔ قدیم زمانے میں اس قسم کا سفر ناممکن تھا کہ آدمی بالائی فضا میں اُڑتے ہوئے مختلف ممالک سے گزرے اور دور اپنی منزل پر پہنچ جائے۔ اس اعتبار سے ہوائی جہاز گویا ایک اُڑتا ہوا تخت (flying throne) ہے جو سوچنے والے کو خدا کی اتھاہ عظمت کے تصور سے لرزا دیتا ہے۔ وہ ایک طرف، خدا کی قدرت اور دوسری طرف، اپنے عجز کا لرزہ خیز تجربہ کرا تا ہے۔ لیکن یہ دیکھ کر مجھ کو تعجب ہورہا تھا کہ جہاز کے مسافر اس عظیم ربانی تجربے سے بالکل بے خبر تھے۔ کوئی مسافر اپنے کان میں مائکروفون لگائے ہوئے میوزک سن رہا تھا، کوئی اپنی سیٹ کے سامنے لگی ہوئی اسکرین پر فلم دیکھ رہا تھا، کوئی اپنے لیپ ٹاپ (laptop) کو کھول کر اس میں مصروف تھا، کوئی کھانے اور پینے کی چیز سے محظوظ ہورہا تھا، کوئی اپنے بچوں کو دیکھ کر ان کی محبت میں گم تھا۔ روحانیت کے سمندر سے گزرتے ہوئے لوگ روحانی سیرابی سے محروم تھے۔

ایسا کیوں ہوا۔ کیا وجہ ہے کہ لوگ اُس وقت عین خداوندی کرشموں کے درمیان تھے، اِس کے باوجود کیوں اس کی حقیقت سے بے خبر ہے۔ اِس کا سبب یہ تھا کہ اس قسم کا اعلیٰ تجربہ کسی کو اچانک پیش نہیں آتا۔ ایک انسان جب زمین پر ہوتا ہے، اُس وقت وہ اپنے آپ کو ایک تیار ذہن (prepared mind) بناتا ہے۔ اِس کے بعد ہی یہ ممکن ہوتا ہے کہ جب یہ تیار ذہن ہوائی جہاز میں سوار ہو کر زمین کی بالائی فضا میں پرواز کرے تو وہ اْس اعلیٰ کیفیت کا تجربہ کرے جس کے لیے اْس نے اپنے آپ کو پیشگی طور پر تیار کیا تھا۔ بلاشبہ ہوائی جہاز کا سفر ایک اعلیٰ ربانی تجربے کا ذریعہ ہے۔ لیکن یہ اعلیٰ ربانی تجربہ صرف اُس انسان کے حصے میں آتا ہے جو ہوائی جہاز کی سواری سے پہلے اپنے آپ کو

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page