This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۵
پینے اور راحت کے سامان کے بارے میں میرا یہ سادہ مزاج ہمیشہ اور ہر جگہ باقی رہتا ہے۔ حدیث میں سادگی کو مومن کا مزاج بتایا گیا ہے (البذاذة من الإيمان)۔ ایسا کیوں ہے؟ اس کا سبب یہ ہے کہ ایمان کسی آدمی کو دنیا کی چیزوں سے اٹھا کر آخرت میں جینے والا بنا دیتا ہے۔ اُس کے دماغ میں ہر وقت یہ خیال چھایا رہتا ہے کہ آخرت میں اُس سے ان تمام چیزوں کے بارے میں باز پرس ہونے والی ہے۔ اِس معرفت کی بنا پر اِس کا وہ حال ہو جاتا ہے جس کو حدیث میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: لو علمتم ما أعلم، لضحكتم قليلاً ولبكيتم كثيراً۔
جن لوگوں کے لیے پھانسی کا حکم سنایا جاتا ہے، اُن کے لیے یہ قانون ہے کہ پھانسی کا پھندا گلے میں ڈالنے سے پہلے اُن کی پسندیدہ غذا اُن کے سامنے پیش کی جائے۔ چناں چہ آخر وقت میں ہر مجرم کے لیے ایسا کیا جاتا ہے۔ لیکن واقعات بتاتے ہیں کہ ایسے لوگوں کے سامنے ان کی پسندیدہ غذا موجود ہوتی ہے، لیکن وہ اس کو کھا نہیں پاتے۔ بلاتشبیہ، یہی معاملہ سچے مومن کے ساتھ پیش آتا ہے۔ اس کے سامنے تمام لذیذ غذائیں موجود ہوں، تب بھی وہ اُن سے محظوظ نہیں ہو پاتا۔ آخرت کی باز پرس کا معاملہ اُس کے لیے قاطع لذت بن جاتا ہے۔
دبئی سے آگے کے سفر کا ایک حصہ وہ تھا جو بحرمتوسط (Mediterranean Sea) کے اوپر سے گزرتا تھا۔ جہاز جب سمندر کے اوپر سے گزرتا ہوا تیزی سے پرواز کرتا ہے تو یہ ایک عجیب منظر ہوتا ہے۔ نیچے کی طرف نظر آتا ہے کہ پانی کے جہاز سمندر کے اوپر تیر رہے ہیں، اور اس کے اوپر ہوائی جہاز تیزی کے ساتھ پرواز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا ہے۔ یہ ایک انوکھا منظر ہوتا ہے جو ماضی میں ہزاروں سال تک انسان کو دیکھنے کے لیے نہیں ملتا تھا۔ یہ منظر اتنا زیادہ انوکھا ہوتا ہے کہ وہ آدمی کو معرفت کے سمندر میں غرق کر دے۔ اُس وقت میں نے سوچا کہ کتنی عظیم قدرت والا ہوگا وہ خدا جو ایسی انوکھی دنیا کو بنائے اور ایسے انوکھے انسان کو بنائے جو فطرت کے امکانات کو واقعہ کی صورت دے سکے۔ جہاز میں شیشے کی کھڑکیاں لگی ہوئی تھیں۔ یہ کھڑکیاں ہمارے لیے معرفت کی کھڑکیاں بن گئیں۔ ہر منظر ہمارے لیے خدا کی عظمت کے نشان میں ڈھل گیا۔ جہاز کے اندر کی دنیا ہمارے لیے شکر کا ماحول فراہم
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues