This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۷
یہاں رن وے کے کنارے خصوصی قسم کی لکژری بس پہلے سے موجود تھی۔ ہم لوگ اُس میں داخل ہو کر اس کے اندر بیٹھ گئے۔ اس کے بعد بس چلتی ہوئی ائر پورٹ کے گیٹ پر پہنچ گئی۔ بس سے اتر کر ہم لوگ باہر نکلے تو پیشگی طور پر وہاں کانفرنس کے دو نمائندے ہم کو رسیو کرنے کے لیے موجود تھے۔ اُن کو دیکھ کر میرا دل بھر آیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے خدا نے اپنے دو فرشتوں کو حکم دیا کہ تم فلاں مقام پر جاؤ۔ وہاں پر ایک عاجز بندہ سواری سے اترے گا۔ اُس کی معاونت کرکے تم اُس کو اس کی منزل پر پہنچاؤ۔ ہوائی اڈے کے اندر داخل ہوئے تو ہم لوگوں کو کچھ نہیں کرنا پڑا۔ مذکورہ دونوں صاحبان نے ائر پورٹ کی تمام ضروری کارروائیاں پوری کیں۔ ہمارے ساتھ کتابوں کے دس بڑے بڑے بنڈل تھے ۔ اس کو بھی اُنھوں نے کنوئیز بیلٹ (conveyorbelt) سے حاصل کیا اور باہر کھڑی ہوئی کار تک پہنچایا۔ ہم لوگوں کا دعوتی کام ائر پورٹ ہی سے شروع ہو گیا۔ ہمارے ساتھیوں نے لوگوں سے مل کر اُن کو پمفلٹ اور بروشر دینا شروع کر دیا۔ لارنا کا ائر پورٹ دبئی وغیرہ کے مقابلے میں ایک چھوٹا ائر پورٹ تھا۔ لیکن وہ صاف ستھرا اور خوب صورت تھا۔ اس کی سادگی میرے ذوق کے عین مطابق تھی۔ میں ذاتی طور پر سادگی کو حسن کا اعلیٰ معیار سمجھتا ہوں ۔ میرا یہ ماننا ہے کہ: Simple is beautiful جس کانفرنس میں ہم کو بلایا گیا تھا، اس کا اہتمام روم کی ایک مسیحی تنظیم نے کیا تھا۔ ائر پورٹ پر جن دو صاحبان نے ہماری کتابوں کے بنڈل کو لے جانے میں مدد کی، وہ دونوں بھی مسیحی حضرات تھے۔ یہ موجودہ زمانے کا ایک عجیب ظاہر ہ ہے ۔ انٹرنیشنل کانفرنس کا اہتمام دوسرے لوگ کر رہے ہیں اور ہم کو وہ کھلا موقع دے رہے ہیں کہ ہم وہاں آنے والوں کو اسلامی کتابیں پڑھنے کے لیے دیں۔ یہ کامل مذہبی آزادی تاریخ میں پہلی بار آئی ہے۔ غالباً یہ اُسی معاملے کا ایک پہلو ہے جس کو قرآن میں پیشگی طور پر ان الفاظ میں بیان کیا گیا تھا: ويكون الدين كله لله (الأنفال : 39) یہ ائر پورٹ لارنا کا شہر میں واقع ہے۔ یہاں سے ہم کو قبرص کے دوسرے شہر نکوسیا (Nicosia) جانا تھا۔ نکوسیا قبرص کا دارالسلطنت ہے۔ لارنا کا سے نکوسیا کا سفر تقریباً ایک گھنٹے کی مسافت پر تھا۔ ہم لوگ
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues