This is a free spiritual gift for you.
الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۱۸
ایئر پورٹ سے باہر نکلے تو یہاں کانفرنس کے منتظمین کی طرف سے ایک کار موجود تھی۔ یہ جدید طرز کی ایک کار تھی جس کو عام طور پر لگزری کار کہا جاتا ہے۔ لیکن میرا اپنا مزاج یہ ہے کہ مجھے کسی بھی سواری کے بجائے پیدل چلنا زیادہ پسند ہے۔ پیدل سفر میں آدمی نیچر سے براہ راست مربوط ہو کر سفر کرتا ہے، جب کہ سواری میں سفر کرنا غیر شعوری طور پر آدمی کو اس احساس میں مبتلا کر دیتا ہے کہ وہ انسانی ساخت کی ایک مشین کے ذریعے سفر کر رہا ہے۔ چناں چہ مسافت اگر کم ہو تو مجھے پیدل سفر کرنا ہمیشہ زیادہ مرغوب ہوتا ہے۔ سڑک کے دونوں طرف پہاڑی علاقہ تھا۔ پہاڑیاں اور وادیاں دور تک پھیلی ہوئی تھیں ۔ یہ پہاڑیاں زردی مائل سفید رنگ (cream-cloured) کی تھیں ۔ اُن پر چھوٹے چھوٹے درخت اُگے ہوئے تھے۔ ہماری گاڑی تیزی کے ساتھ سڑک پر دوڑ رہی تھی۔ سڑک کے دونوں طرف پھیلے ہوئے خوب صورت مناظر حسن فطرت کا ایک نیا نمونہ دکھا رہے تھے۔ یہاں سڑک پر کاروں کا ہجوم نہیں تھا، البتہ تھوڑے تھوڑے فاصلے پر کچھ کاریں آگے پیچھے دوڑتی ہوئی نظر آ رہی تھیں ۔ راستے میں کہیں کہیں کچھ عمارتیں سڑک کے دونوں طرف دکھائی دے رہی تھیں ۔ یہ عمارتیں زیادہ تر مارکیٹ یا شاپنگ سنٹر کے طور پر بنائی گئی تھیں ۔ کچھ رہائشی مکانات بھی نظر آئے۔ یہ مکانات سادہ اور خوب صورت تھے۔ ایک طرف دور پہاڑ پر ایک جھنڈا دکھائی دیا۔ یہ جھنڈا پہاڑ کے اوپر کندہ (engraved) تھا۔ ہمارے ڈرائیور مسٹر پیٹر (Peter) نے بتایا کہ یہ ترکی کا جھنڈا ہے۔ ترکوں نے 1974 میں قبرص کے مشرقی سمت میں داخل ہو کر اس کا 37 فی صد حصہ اپنے قبضے میں لے لیا۔ اُس وقت سے یہ علاقہ ترکوں کے زیرِ قبضہ ہے۔ ترکوں کے اس فعل کی وجہ سے قبرص کے مسیحی لوگوں کے اندر اُن کے خلاف منفی جذبات پیدا ہو گئے۔ یہ منفی جذبات دعوت کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہیں۔ مسلمان اگر اپنی طرف سے اس طرح کے مسائل نہ کھڑے کریں اور پر امن انداز میں دعوت کا کام کریں تو اس کے بعد معتدل ماحول میں دعوت کا نہ رکنے والا پر اس شروع ہو جائے اور خدا کے بہت سے بندے اور بندیاں اس کی ابدی رحمتوں کے سائے میں آ جائیں۔ میں نے سوچا کہ دورِ اول میں مسلمانوں کا سب سے بڑا کنسَرن یہ تھا کہ وہ لوگوں کے دلوں میں سچائی کا پیغام داخل کریں۔ بعد کے
‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues