Al-Risala · February 2009 · page 20

This is a free spiritual gift for you.

الرسالہ، فروری ۲۰۰۹، صفحہ ۲۰

سبب یہ ہے کہ آج کی دنیا کے لوگ تشدد (violence) کو بہت برا سمجھتے ہیں۔ جب وہ یہ سنتے یا پڑھتے ہیں کہ مہاتما گاندھی نے اپنی پوری تحریک عدم تشدد (non-violence) کے اصول پر چلائی تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں۔ یہ جدید دور کا مزاج ہے۔ آج کا انسان تشدد کرنے والے کے نام سے بے زاری کا اظہار کرتا ہے۔ اس کے مقابلے میں امن کا کام کرنے والے کے لیے وہ اپنے دل میں احترام کا جذبہ پاتا ہے۔ ہلٹن ، ہوٹلوں کی ایک انٹرنیشنل امریکی تنظیم کا نام ہے۔ یہ تنظیم 1919 میں قائم ہوئی۔ اس کی شاخیں دنیا کے 80 سے زیادہ ملکوں میں موجود ہیں۔ میں نے سوچا کہ ہلٹن ہوٹل ساری دنیا میں کامیابی کے ساتھ اپنی تنظیم چلا رہا ہے۔ لیکن مسلمانوں میں اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ مسلمان ایک ادارہ قائم کرتے ہیں اور پھر وہ اختلاف کا شکار ہو کر ختم ہو جاتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ہلٹن کی تنظیم عالمی طور پر مسلمہ اصول (internationally accepted norms) کے مطابق قائم کی جاتی ہے۔ وہ مروّجہ قوانین کے مطابق ہوتی ہے، جب کہ مسلمان عام طور پر شخصی تعلقات یا گھریلو انداز میں اپنا ادارہ قائم کرتے ہیں۔ یہی وہ فرق ہے جس نے دونوں قسم کی تنظیموں میں انجام کے اعتبار سے فرق پیدا کر دیا ہے۔ 16 نومبر 2008 کو دوپہر کے بعد ہم لوگ ہوٹل ہلٹن پارک پہنچے تھے۔ آج ہی کے دن شام کو ساڑھے چار بجے کانفرنس کا افتتاح (opening assembly) تھا۔ یہ افتتاح یونی ورسٹی آف سائپرس کے اسپورٹ سنٹر میں کیا گیا۔ اسپورٹ سنٹر کا یہ ہال جدید طرز پر بنایا گیا تھا اور غیر معمولی طور پر وسیع اور پُرشکوہ تھا۔ کانفرنس کا یہ افتتاحی پروگرام حسب ذیل افراد کی صدارت میں کیا گیا: Françoise Rivière, Director General Adj. of UNESCO Siti Musdah Mulia, University Islam Syarif Hidayatullah, Indonesia اس افتتاحی پروگرام میں مختلف ملکوں کی اعلیٰ مذہبی اور سیاسی شخصیتوں نے خطاب کیا مثلاً: Dimitris Christofias, President of the Republic of Cyprus Chrysostomos II, Archbishop of New Justinian and All Cyprus Andrea Reccardi, Community of Sant’ Egidio Stanislaw Dziwisz, Cardinal, Archbishop of Cracow, Poland Shear-Yashuv Coheu, Chief Rabbi of Haifa, Israel

‹ Previous page Next page › Contents of February 2009 All issues

Printed page