دعوت الی اللہ ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر
الرسالہ، جنوری ۲۰۰۹، صفحہ ۷
دعوت الی اللہ ، امر بالمعروف ، نہی عن المنکر
قرآن میں اصلاح اور تبلیغ کی ذمے داریوں کو بتانے کے لیے دو مختلف الفاظ آئے ہیں۔ ایک ، دعوت الی اللہ اور دوسرا ، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر۔ یہ دونوں ہم معنی الفاظ نہیں ہیں ، بلکہ وہ دو الگ ذمے داریوں کو بتانے کے لیے استعمال کیے گئے ہیں۔
دعوت سے مراد غیرمسلموں کے درمیان دعوت ہے۔ دعوت کا لفظ اُس عمل کے لیے بولا جاتا ہے جو غیر مسلموں تک خدا کا پیغام پہنچانے کے لیے کیا جائے۔ قرآن میں اس کام کے لیے بعض دوسرے الفاظ بھی آئے ہیں۔ مثلاً انذار ، تبشیر اور شہادت ، وغیرہ۔ دعوتی عمل کی تفصیلات اور اس کی شرائط قرآن کے مطالعے سے معلوم کی جاسکتی ہیں۔
امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اُس اصلاحی عمل کا نام ہے جو مسلمانوں کے درمیان کیا جائے ، یعنی مسلمانوں کے درمیان باہمی اصلاح کا عمل۔ اس لیے اس کو تامر بالمعروف اور تابی عن المنکر کے الفاظ میں بھی بیان کیا گیا ہے (ابوداؤد ، کتاب الملاحم)۔ اس کام کا کوئی تعلق حکومت اور اقتدار سے نہیں ہے۔ ہر مسلم معاشرے کی ہر حال میں یہ داخلی ذمے داری ہے کہ وہ بقدر وسع ، مسلمانوں کے اندر امورِ خیر کی تلقین کرے اور مسلمانوں کو ہر قسم کی برائی سے بچانے کی مسلسل کوشش کرے ۔ یہ پوری طرح ایک پر امن عمل ہے ، تشدد سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
دعوت کا کام نسل در نسل قیامت تک مطلوب ہے۔ یہ ایک خدائی کام ہے اور وہ اس لیے ضروری ہے تاکہ انسانوں کے اوپر خدا کی حجت قائم ہو سکے۔ پیغمبر آخرالزمان ﷺ کے بعد آپ کی امت کو یہ کام اُسی طرح انجام دینا ہے ، جس طرح آپ نے اپنے زمانے میں اس کام کو انجام دیا تھا۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا کام اس لیے ضروری ہے کہ وہ امت کی داخلی اصلاح کی ضمانت ہے۔ قرآن کے مطابق ، اس کام کو چھوڑنا ، ایک سنگین جرم کی حیثیت رکھتا ہے۔ جس مسلم گروہ کے اندر یہ کام نہ ہو ، وہ قرآن اور حدیث کی صراحت کے مطابق ، لعنت (المائدة: 79) کا مستحق ہو جائے گا۔ کوئی دوسرا عمل اس کوتاہی کی تلافی نہیں کر سکتا۔
‹ Previous page Next page › Contents of January 2009 All issues